قیدی

افریقہ کے جنگلوں میں ایک مہم جو کسی تلاش میں جا رہا تھا ۔ اس کو وحشیوں نے گھیر کر ختم کرنا چاہا تو اس نے وحشی قبائل کو چند چھوٹے چھوٹے تحائف اور بیکار سی چیزیں دے کر انہیں رام کر لیا ۔ آگے پھر وہ پکڑا گیا ۔ یہاں بھی اس نے قلم، چاقو سگریٹ لائٹر وغیرہ دے کر انہیں راضی کر لیا ۔ اور آگے بڑھ گیا ۔ ۔ ۔ ۔ یہی حال باطن کے سفر کا ہے ۔ اس میں بھی کچھ چھوٹی موٹی چیزیں دے کر اور کچھ چھوڑ کر آگے کا سفر اختیار کرنا پڑتا ہے۔ 
مجمع میں سے ایک شخص نے اٹھ کر کہا  میں اپنے باطن کے سفر کے لیے ایک چیز چھوڑتا ہوں اور وہ ہے لوگوں کو ہر حال میں خوش رکھنے کی آرزو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج کے بعد سے میری  یہ آرزو نہیں رہے گی ۔ اب تک میں ہر شخص کو خوش رکھنے کی تمنا کا ایک قیدی تھا ۔ اب میں اس قید سے آزاد ہوتا ہوں ۔ 

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 568