"کمبر"

میری بلی "کمبر" فرش سے کود کر میرے پیٹ پر آ گری تھی ، اور اب وہاں سے چل کر میرے سینے پر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چھینک ماری کہ کب تک لیٹے رہو گے ، میرے دودھ کا وقت ہوگیا ہے اور تم کو کوئی فکر نہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے سینے پر بیٹھ کر خرخر کرنے لگی ۔ پھر آنکھیں بند کر کے مراقبے میں چلی گئی ۔ میں دیر تک اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتا رہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی طرح لیٹے لیٹے مجھے خیال آیا کہ اگر میں کمبر ( بلی ) کی طرح ساری فکریں چھوڑ کر اپنے اللہ کی یاد میں کود جاؤں تو کیا مجھے وہ سب کچھ نہیں ملے گا جو اس بلی کو ملتا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔خوراک، رہائش ، توجہ ، محبت ، کیئر۔ 
اگر میرے جیسا سست کم ہمت اپنی بلی پر اس قدر توجہ دیتا ہے تو کیا میرا خدا میرے لیے سب کچھ نہیں کرے گا۔ 

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 428