احساسِ ندامت

کچھ لوگ ندامت کا احساس بڑے فخر سے کرتے ہیں ۔ یہ بھی ان کی انا کا ایک مظہر ہوتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں توبہ توبہ ۔ ۔ ۔  جوانی میں بڑے گناہ کیے ۔ اب بھی میں اپنے کرتوتوں سے باز نہیں آتا ۔ بظاہر تو وہ افسوس کرتے نظر آئیں گے مگر اندر سے وہ فخر کر رہے ہوں گے ۔ 
جب انا کو سارے نپل چھڑوائے جاتے ہیں تو سب سے آخری نپل جو اس کے منہ میں رہ جاتا ہے وہ احساسِ ندامت کا ہوتا ہے ۔ اس ندامت کے احساس سے وہ لوگوں پر برتری کا رعب جماتا ہے ۔ جب اپنی منفی حرکتوں کا احساس ہونے لگے تو ان کو ترک کرنا باطن کے سفر کا پہلا قدم ہے ۔ ان کے اظہار کا نہیں ۔ 


اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 528