نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بھید

صبح جب ہم  فجر کی نماز پڑھ  کے سیر کے لیے نکلتے ہیں تو ہمیں جھک کر اپنے جوتے پہننے پڑتے ہیں ۔ اور جب مسجد سے نکلنے سے پہلے جوتے پہن رہے ہوتے ہیں  تو اللہ تعالیٰ ہمارے پاس روز آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کہاں جا رہے ہو مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو ۔ تو ہم میں سے ایک کہتا ہے کہ میں واپڈا دفتر جا رہا ہوں ، آپ کو کیسے ساتھ لے جاؤں ۔ دوسرا شخص کہتا ہے کہ جی میرا ٹیلیفون کا محکمہ ہے ۔ میں آپ کو وہاں نہیں لے جا سکتا اور میرے جیسے رٹائر آدمی کہتے ہیں آپ ہمارے گھر جا کر کیا کریں گے اور اسی طرح ہم سب یک زبان ہو کر کہتے ہیں اللہ تعالیٰ آپ یہیں رہیں ہم پھر کبھی آپ سے مل لیں گے اور ہم نے ظہر کے وقت آنا ہی ہے ناں ، تب آپ سے ملاقات ہو جائے گی ۔ آپ ایسا نہ کرنا کہ ہمارے گھروں میں ہمارے دفتروں میں آجائیں کیونکہ ہمارا " بھید "  آپ پر کھلنا نہیں چاہیے  کہ ہم اپنے دفاتر میں کیا کرتے ہیں ۔ 

اشفاق احمد زاویہ 3 اللہ میاں کی لالٹین  صفحہ 110

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15