نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بھید

صبح جب ہم  فجر کی نماز پڑھ  کے سیر کے لیے نکلتے ہیں تو ہمیں جھک کر اپنے جوتے پہننے پڑتے ہیں ۔ اور جب مسجد سے نکلنے سے پہلے جوتے پہن رہے ہوتے ہیں  تو اللہ تعالیٰ ہمارے پاس روز آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کہاں جا رہے ہو مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو ۔ تو ہم میں سے ایک کہتا ہے کہ میں واپڈا دفتر جا رہا ہوں ، آپ کو کیسے ساتھ لے جاؤں ۔ دوسرا شخص کہتا ہے کہ جی میرا ٹیلیفون کا محکمہ ہے ۔ میں آپ کو وہاں نہیں لے جا سکتا اور میرے جیسے رٹائر آدمی کہتے ہیں آپ ہمارے گھر جا کر کیا کریں گے اور اسی طرح ہم سب یک زبان ہو کر کہتے ہیں اللہ تعالیٰ آپ یہیں رہیں ہم پھر کبھی آپ سے مل لیں گے اور ہم نے ظہر کے وقت آنا ہی ہے ناں ، تب آپ سے ملاقات ہو جائے گی ۔ آپ ایسا نہ کرنا کہ ہمارے گھروں میں ہمارے دفتروں میں آجائیں کیونکہ ہمارا " بھید "  آپ پر کھلنا نہیں چاہیے  کہ ہم اپنے دفاتر میں کیا کرتے ہیں ۔ 

اشفاق احمد زاویہ 3 اللہ میاں کی لالٹین  صفحہ 110

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…