نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

April, 2013 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

دلیل

آپ کے ذہن میں کوئی ایسی دلیل آ جائے جو بہت طاقتور ہو اور اس سے اندیشہ ہو کہ اگر میں یہ دلیل دوں گا تو یہ بندہ شرمندہ ہو جائے گا  کیونکہ اس آدمی کے پاس اس دلیل کی کوئی کاٹ نہیں ہو گی ۔ شطرنج کی ایسی چال میرے پاس آگئی ہے کہ یہ اس کا جواب نہیں دے سکے گا  اس موقعے پر بابے کہتے ہیں کہ اپنی دلیل روک لو بندہ بچا لو ، اسے ذبح نہ ہونے دوکیونکہ وہ زیادہ قیمتی ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 2  ویل وشنگ صفحہ 46

دل اور جسم

محبت پانے والا بھی اس بات پر مطمئن نہیں ہوتا کہ اسے ایک دن کے لیے مکمل محبت حاصل ہوئی تھی ۔ محبت تو ہر دن کے ساتھ اعادہ چاہتی ہے ۔ روز سورج نہ چڑھے تو دن نہیں ہوتا ۔ جس روز محبت کا سورج طلوع نہ ہو رات رہتی ہے ۔  یہ دل اور جسم بڑے بیری ہیں ایک دوسرے کے ۔ جسم روندا جائے تو یہ دل کو بسنے نہیں دیتا اور دل مٹھی بند رہے تو تو یہ جسم کی نگری کو تباہ کر دیتا ہے ۔
بانو قدسیہ راجا گدھ  سے اقتباس

فوکس

سورج جب چمکنے لگتا ہے تو بڑی روشنی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دن چڑھ آتا ہے ، دھوپ پھیلتی ہے ، حدت ہوتی ہے، تپش ہوتی ہے، لیکن یہ پھیلی ہوئی گرمی جلاتی نہیں آگ نہیں لگاتی ۔ اور جب یہ روشنی یہ دھوپ ایک نقطے پہ مرکوز ہوتی ہے تو آگ لگتی ہے ، کاغذ جل اٹھتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اصل میں سارا راز ایک نقطے پر مرکوز ہونے میں ہے ۔ خواہش ہو ،  ارادہ ہو، دعا ہو یہ ساری کی ساری ہماری وِل کی صورتیں ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ نیم  رضا ۔ ۔ ۔ ۔  نیم گرم  ۔ ۔ ۔ ۔نیم جاں ۔ ۔ ۔ ۔  ارادے کی صورت ۔ لیکن جب تک ہمارے ارادے کی تپش کسی مرکز پر فوکس نہیں ہوتی وہ جلا نہیں سکے گی ، بھڑک نہیں سکے گی ، بھڑکا نہیں سکے گی ۔ 
اشفاق احمد  من چلے کا سودا صفحہ 189

دل کی خوشی

کسی غریب یا ضرورت مند کو آسانی فراہم کریں اور بجائے کسی پر ظاہر کرنے کے دل ہی دل میں خوش ہوں کہ اے اللہ تیرا شکر ہے کہ اس قابل ہوا کہ تیرے بندے کے کام آسکا ۔ اور آپ مجھے اور نوازنا اور عزت دینا کہ میں مزید اس کارِ خیر کو جاری رکھ سکوں اور مدد کر کے خوشی محسوس کرنا وقار ہے ۔
اشفاق احمد زاویہ 3 فرنٹ سیٹ صفحہ 106

مسکراہٹ

زندگی یوں تو گذر ہی جاتی ہے لیکن ہماری زندگی باہم انسانوں کے درمیان اور ان کی محبت میں گذرے تو وہ زندگی بڑی خوبصورت ہوگی ۔  انسان اللہ کو خوش کرنے کے لیے عبادات کرتا ہے ۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر خداوند تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے تا کہ اسے خالق اور پالنہار کی خوشنودی حاصل ہو جائے ۔ اگر ہم اللہ کی خوشنودی کے لیے انسانوں کو محبت کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیں اور سوچ لیں کہ ہم نے کبھی بھی کسی انسان کو حقیر نہیں سمجھنا تو یقین کریں کہ یہ سوچ ہی آپ کے دل کو اتنا سکون فراہم کرے گی کہ آپ محسوس کریں گے کہ جیسے خدا آپ کو مسکراہٹ سے دیکھ رہا ہے ۔ آپ عبادات ضرور کریں شوق سے کریں لیکن خدارا انسانوں کو بھی اپنے قریب کریں ۔ یہ بھی عظیم عبادت ہے ۔
اشفاق احمد زاویہ 3  پتنگ باز سجنا صفحہ 75

رحمت خانہ

ہمارے بابا جی کا حکم تھا کہ اپنے گھر کے لیے "غریب خانے " کا  لفظ کبھی نہ استعمال کیا کرو ۔ یہ بڑی ہیٹی کی بات ہے کہ آپ اپنے گھر کو غریب خانہ کہیں ۔  جس گھر میں اللہ کی رحمتیں ہیں ، برکتیں ہیں ، اولاد ہے ،رزق ہے، روشنی ہے،چھت ہے تو وہ رحمت خانہ ہے  نا کہ غریب خانہ ۔
اشفاق احمد زاویہ 3   کامیاب زندگی  صفحہ 177

جوانی اور بڑھاپا

میں اس کے ذرا قریب ہو گیا اور کہا کہ " جوانی اچھی ہوتی ہے یا بڑھاپا "۔  اس نے کہا" جوانوں کے لیے بڑھاپا اور بوڑھوں کے لیے جوانی " ۔ میں نے کہا وہ کیسے ؟ بولا بوڑھے اگر جوان ہو جائیں تو تو وہ اپنی پہلے والی غلطیاں شاید نہ دہرائیں اور اگر جوان بوڑھوں کو تجربے کے طور پر لیں تو تو ان کی جوانی بے داغ اور بے عیب گذرے ۔  اس بوسیدہ کپڑوں والے بوڑھے نے اتنی وزنی بات کی تھی کہ بڑے مفکر اور دانشور ایسی بات نہیں کر سکتے ۔
اشفاق احمد زاویہ 3  پندرہ روپے کا نوٹ صفحہ 45

نمبر

اب انسان نے اپنے آپ کو کیا بنا لیا ہے امیر علی ؟
میں یعقوب نہیں ہوں میرا بیٹا وجاہت علی نہیں ہے ، انسان نہیں ہے ۔ ہم سب نمبرز ہیں ۔ کوٹھی نمبر، کار نمبر ، لائسنس نمبرز ، فون نمبرز، انشورنس پالیسی نمبرز  بینک اکاؤنٹ نمبر ۔ میں انسان کی حیثیت سے نہیں جانا جاتا اپنے نمبروں کی وجہ سے پہچانا جاتا ہوں ۔ یہ نمبرز میرے شناختی کارڈ ہیں ۔  کوئی یعقوب کو نہیں جانتا ان نمبرز کو سب جانتے ہیں ۔ 
اشفاق احمد شہرِ آرزو صفحہ 193 بشکریہ : اینجل فاری

دولت کے انبار

دولت کا انبار کھاد اور کوڑے کے ڈھیر کی مانند ہے ۔ جس شخص کے پاس یہ ڈھیر جمع رہتا ہے  ، اس کے وجود سے اس کے گرد و نواح  اور اس کی سانسوں سے  بدبوکے بھبھاکے آتے رہتے ہیں ۔لیکن جونہی کھاد کا یہ ڈھیر دور دور بکھیر دیا جاتا ہے اور آسمانوں سے اس پر شبنم کا نزول ہوتا ہے تو اس میں سے خوبصورت رنگوں والے  خوشبو دار پھول پیدا ہوتے ہیں  جن کی خوشبو سے ساری کائنات مہکنے لگتی ہے ۔
اشفاق احمد  شہرِ آرزو صفحہ 368 بشکریہ : اینجل فاری

موت اور مذہب

اگر آدمی کو موت نہ آتی ، اگر وہ ہمیشہ زندہ رہتا یعنی اس دنیا میں موت نہ ہوتی تو پھر شاید مذہب کا بھی کوئی وجود نہ ہوتا ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ441

اولڈ ہومز

جب کسی ملک میں یا معاشرے میں اولاد والدین سے عاجز آجاتی ہے اور بزرگوں کو لاوارث قرار دے کر اولڈ ہومز میں بھرتی کروا دیا جاتا ہے  ، تو قوموں کا زوال شروع ہو جاتا ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3 پندرہ روپے کا نوٹ صفحہ 46

تار

انسان کے دل میں خدا کی مہربانی سے ایک ایسا تار ضرور موجود ہے کہ وہ لوٹ کر خدا کی طرف ضرور آتا ہے ۔ چاہے وہ کسی بھی روپ میں آئے ۔ اشفاق احمد زاویہ 3 اللہ تعالیٰ کی لالٹین  صفحہ 112

معدوم

مجھے خیال آیا اور ایک مقام پر میں نے سوچا کہ شاید میں " زاویہ " پروگرام کی نسبت  بہتر  طور پر آپ کی خدمت کر سکتا ہوں  اور کسی ایسے مقام پر پہنچ کر آپ کی دستگیری کروں جہاں پر مجھے پہنچ جانا چاہیے تھا ۔ لیکن یہ خیال باطل تھا اور یہ بات میرے نزدیک درست نہیں تھی ۔ لیکن اس کا احساس مجھے بہت دیر میں ہوا  کہ جو شخص جس کام کے لیے پیدا ہوتا ہے ، بس وہی کر سکتا ہے اس سے بڑھ کر کرنے کی کوشش کرے تو معدوم ہو جاتا ہے ۔ میں آئندہ کے پروگراموں میں شاید اس بات کا ذکر کروں کہ میں آپ کے بغیر اور آپ کی معیت کے بغیر اور آپ سے دور  کس طرح معدوم ہوتا ہوں ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 2 بشیرا صفحہ 119

حقیقی خصوصیت

پروفیسر صاحب نے کنویں کے اندر جب وہ جلتا ہوا اخبار  پھینکا اور اخبار ایک چنڈول کی طرح اپنی تمام روشنی لے کر اور خود قربان ہو کے ہمارے لیے روشنی پیدا کرنے لگا ۔ اس چھوٹے سے اخبار کی قربانی اور روشنی سے وہ اندھا اور تاریک کنواں اور اس کے تمام خد و خال پوری طرح نظر آنے لگے ۔اور اس کے پورے کے پورے طاقچے کھلنے لگے ۔  اور اس کا تمام تر حسن ہم پرعیاں اور نمایاں  ہونے لگا ۔ اور ہمیں پتہ چلا کہ اس کنویں کے اندر کیا کیا خوبیاں ہیں ۔ اس سے ہمیں پتہ چلا کہ جب تک اندر کے اندر ایک شمع روشن نہیں ہوگی اور اندر ایک ایسا جلتا ہوا اخبار نہیں اترے گا اپ کو ، ہم کو ، مجھ کو پتہ نہیں چل سکے گا کہ میری آپ کی خصوصیات کیا ہیں اندر کے حقیقی خال و خد کیا ہیں اور بس انسان یا اچھے انسان کہنے سے ہم اچھے والے تو نہیں بن جائیں گے ناں ! ! ! ۔
اشفاق احمد زاویہ 3 اندھا کنواں صفحہ 220

دلچسپ مخلوق

انسان بڑی دلچسپ مخلوق ہے ۔ یہ جانور کو مصیبت میں دیکھ کر برداشت نہیں کر سکتا لیکن انسان کو مصیبت میں مبتلا کر کے خوش ہوتا ہے ۔ یہ پتھر کے بتوں تلے ریشم اور بانات کی چادریں بچھا کر ان کی پوجا کرتا ہے ۔ لیکن انسان کے دل کو ناخنوں سے کھروچ کے رستا ہوا خون چاٹتا ہے ۔ انسان اپنی کار کے آگے گھٹنے ٹیک کر اس کا ماتھا پونچھتا اور اس کے پہلو چمکاتا ہے اور میلے کچیلے آدمی کو دھکے دے کر اس لیے پرے گرا دیتا ہے کہ کہیں ہاتھ لگا کر وہ اس مشین کا ماتھا نہ دھندلا کر دے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  انسان پتھروں سے مشینوں سے جانوروں سے پیار کر سکتا ہے انسانوں سے نہیں ۔

اشفاق احمد  شہرِ آرزو صفحہ 356 بشکریہ : اینجل فاری

اظہار

اپنے گھر میں داخل ہو کر اپنی آپا سے یا بیوی سے یا بوڑھے والدین سے آپ  یہ ضرور کہا کریں  چاہے کبھی کبھی ، کہ آپ  بہت اچھی ہیں ۔  مجھے بڑے ہی اچھے لگتے ہیں ۔ آپ جن سے محبت کرتے ہوں انہیں ضرور بتایا کریں ، آپ مجھے اچھے لگتے ہیں ۔ چاہے موچی سے جوتا مرمت کروائیں اسے ضرور سراہیں ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3 ٹین کا خالی ڈبہ صفحہ 192

عورت اور چڑیا

عورت کے بارے میں ایک بات ضرور یاد رکھیےکہ عورت اور چڑیا دونوں ہی اپنے گھونسلے میں ہر طرح کا ڈکا ، تنکا استعمال کر لیتی ہیں ۔  چڑیا کو آپ نے دیکھا ہوگا وہ لمبا تنکا بھی لے جا رہی ہوتی ہے ، چھوٹا بھی ، سرکنڈے جیسا بھی ،  کھردرا بھی اور ملائم بھی اور جب اس کا گھونسلا بن چکا ہوتا ہے تو وہ انتہائی خوبصورت اور خوشنما ہوتا ہے ۔
اشفاق احمد  زاویہ 3 بش اور بلیئر صفحہ 183

بوجھ

انسان پر کئی طرح کا بوجھ ہوتا ہے ۔ ہمارے اوپر سب سے بڑا بوجھ تکبر کا ہوتا ہے ۔  اور ہم یہ جانے بغیر کہ خدا کے نزدیک کون بڑا ہے اور کون گھٹیا  ، فیصلے خود ہی کرتے  رہتے ہیں ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  شاہی محلے کی ابابیلیں صفحہ 122

سلام ، رکوع، ظلم

جو سلام کرنا اور رکوع میں جانا جانتے ہوں وہ کبھی ظلم نہیں کر سکتے ۔
اشفاق احمد زاویہ 2 مٹی کے رشتے صفحہ 318

عجیب دین

یہ عجیب دین ہے  کہ شام سے یا رات سے منسوب کر کے اس کے دن کا اور مہینہ  کا آغاز کیا جاتا ہے ۔  دنیا کے کسی اور مذہب میں ایسا نہیں ہے اور کسی امت پر ایسا بوجھ نہیں ۔ اس کی وجہ جو میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ اس اُمّت کو یہ بارِ گراں عطا کیا گیا ہے کہ باوصف اس کے کہ تمہارا نیا دن چڑھ گیا ہے تم نئے ماہ میں داخل ہو گئے ہو ۔ اور اس کے بعد پوری تاریک رات کا سامنا ہے لیکن تم ایک عظیم اُمّہ ہو ۔ تم ایک پر وقار امت سے تعلق رکھتے ہو ۔  تم اس تاریکی سے گھبرانا ہرگز ہرگز  نہیں  بلکہ اس تاریکی سے گذر کر اپنے وجود پر اعتماد کر کے تمہیں اس صبح تک پہنچنا ہے جس سے ساری جگہ روشنی پھیلے گی ، گویا اس تاریکی کے اندر ہی اندر آپ کو اپنی ذات ، وجود اور شخصیت سے  روشنی کرنی ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 2 رشوت صفحہ 116

بے غرض محبت

ماں باپ کا دعویٰ ہوتا ہے کہ ان کی محبت بے لوث ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہیں اولاد سے کچھ درکار نہیں ۔ ساتھ ساتھ وہ اولاد کو اپنی مرضی کے مطابق دیکھنے کے خواہشمند  بھی ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بچوں کی زندگی میں دخل اندازی کر کے بچوں پر دباؤ بھی ڈالتے ہیں ۔ رکاوٹ بھی پیدا کرتے ہیں ۔ اور یہ بھی سمجھتے رہتے ہیں کہ ان کی محبت بے غرض ہے ۔ 165اشفاق احمد من چلے کا سودا  صفحہ

فتح و شکست

اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے نفس کو فتح کرنا بہت مشکل کام ہے ۔ لیکن اس سے بڑی بھی اور کوئی حقیقت نہیں کہ اپنے نفس کے بجائے  انسان اور کس شے کو فتح کر سکتا ہے ۔  ساتھ ساتھ یہ بھی سن لہ کہ جس نے اپنے نفس کو فتح کر لیا اس کے لیے باقی کی ساری چیزیں خودبخود مغلوب ہو گئیں ۔  اور یاد رکھو کہ  اس دنیا میں بس ایک ہی فتح ہے اور ایک ہی شکست ۔ اپنے نفس سے اس کے ہاتھوں  ہزیمت کھانا  شکست ہے  اور اپنے نفس پر اُسے کے ہاتھوں  حکمرانی کرنا فتح ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3 علم فہم اور ہوش صفحہ 291

کھوئی ہوئی محبت

پہاڑوں میں ، کھوئی ہوئی محبتیں اور بھولی ہوئی یادیں پھر لوٹ آتی ہیں۔جس طرح بارش کے دنوں میں باہر بوندیں پڑتی ہیں، تو انسان کے اندر بھی بارش ہونے لگتی ہے ۔اوپر سے تو ٹھیک رہتا ہے،لیکن اندر سے بالکل بھیگ جاتا ہے۔اس قدر شرابور کہ آرام سے بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں باقی نہیں رہتی ۔یہی کیفیت پہاڑوں میں جا کر ہوتی ہے۔کیسا بھی اچھا ساتھ کیوں نہ ہو انسان تنہا ہو کر رہ جاتا ہے۔اور اداسی کی دھند اسے چاروں طرف سے لپیٹ لیتی ہے۔اندر آہستہ آہستہ اندھیرا چھانے لگتا ہے اور باہر کیسی بھی دھوپ کیوں نہ کھلی ہو، کیسی بھی ٹھنڈی ہوا کیوں نہ چل رہی ہو اندر ٹپاٹپ بوندیں گرنے لگتی ہیں،اور شدید بارش ہو جاتی ہے۔اور اندر سے بھٹکا ہوا انسان باہر کے آدمیوں کے کام کا نہیں رہتا۔ان کا ساتھی نہیں رہتا ۔  
اشفاق احمد سفر در سفر  صفحہ 25

کلچرل شگوفے

ہم میں مذہب کا فرق نہیں ہے ۔ اس میں ہماری تسلیم بھی مشترکہ ہے اور رضا بھی مشترکہ  لیکن ہم خط بنواتے ہیں ۔ ہم داڑھی کو موٹی مشین لگواتے ہیں ۔ تم محرم میں روز مرہ کے کپڑے پہنتے ہو ہم سیاہ لباس پہنتے ہیں ۔  تم اپنی مولوی کو مولانا کہتے ہو ۔ ہم علامہ کہتے ہیں ۔ ہمارا بنیادی مذہب تو ایک ہے لیکن اس کے اندر کے کلچرل شگوفے مختلف ہیں ۔ آؤ ہم چھانٹ چھانٹ کر اور بین بین کر اور چمٹی سے پکڑ پکڑ کر ان ثقافتی اختلافات کو لہرائیں اور ایک دوسرے سے لڑیں ۔  تم بھی اللہ کا ذکر کرتے ہو  ہم بھی کرتے ہیں ۔ تم اونچی آواز میں کرتے ہو ہم دل میں کرتے ہیں ۔ ذکر میں کوئی فرق نہیں ۔ الفاظ میں کوئی تفاوت نہیں ۔ ادائی میں ہمارا تمہارا کلچرل پیٹرن مختلف ہے اس لیے آؤ جھگڑا کریں ۔ یہ جھگڑے تو ثقافتی اختلافات کے ہیں لیکن آؤ انہیں مذہب کے کھاتے میں ڈال دیں ۔  
اشفاق احمد زاویہ 3 کلچر اور پیوند کاری صفحہ 276

تبدیلی

"اگر آپ کا ذہن دکھ اور درد سے ٹریجڈی اور کرب سے بھر جائے تو کیا اپنے پڑوسی کو تبدیل کر دینا چاہیے ؟" " نہیں سر ! اپنے  ذہن کو تبدیل کرنا چاہیے ۔ "   اگر تمہارے جذبات  میں ہیجان پیدا ہو جائے اور گھبراہٹ چاروں طرف سے گھیر لے تو سوشل سسٹم تبدیل کر دینا چاہیے؟ " نو سر ! جذبات کو تبدیل کرنا چاہیے ۔ "  " لیکن کیوں؟" "  اس لیے کہ صحیح مقام پر تبدیلی لانی چاہیے۔"  شاباش!   ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ایک بیمار آدمی کو اس کی بیماری سے بالکل افاقہ نہیں ہوگا اگر وہ اپنے ارد گرد کے لوگوں کو تبدیل کرنا شروع کر دے اس کو اپنی بیماری کی طرف توجہ دینا ہوگی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اپنے دکھ اور اپنی مصیبتوں کے لیے دوسروں کو الزام دینا ایک ایسی عادت ہے جو ہمارے اندر بری طرح پختہ ہو چکی ہے ۔ اس عادت کا قلع قمع کرنا چاہیے ۔ صرف  اپنے وجود پر کام کرنے سے آپ کا اندر تبدیل ہو سکتا ہے ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 578