تبدیلی

"اگر آپ کا ذہن دکھ اور درد سے ٹریجڈی اور کرب سے بھر جائے تو کیا اپنے پڑوسی کو تبدیل کر دینا چاہیے ؟"
" نہیں سر ! اپنے  ذہن کو تبدیل کرنا چاہیے ۔ " 
 اگر تمہارے جذبات  میں ہیجان پیدا ہو جائے اور گھبراہٹ چاروں طرف سے گھیر لے تو سوشل سسٹم تبدیل کر دینا چاہیے؟
" نو سر ! جذبات کو تبدیل کرنا چاہیے ۔ " 
" لیکن کیوں؟"
"  اس لیے کہ صحیح مقام پر تبدیلی لانی چاہیے۔"
 شاباش!   ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ایک بیمار آدمی کو اس کی بیماری سے بالکل افاقہ نہیں ہوگا اگر وہ اپنے ارد گرد کے لوگوں کو تبدیل کرنا شروع کر دے اس کو اپنی بیماری کی طرف توجہ دینا ہوگی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اپنے دکھ اور اپنی مصیبتوں کے لیے دوسروں کو الزام دینا ایک ایسی عادت ہے جو ہمارے اندر بری طرح پختہ ہو چکی ہے ۔ اس عادت کا قلع قمع کرنا چاہیے ۔ صرف  اپنے وجود پر کام کرنے سے آپ کا اندر تبدیل ہو سکتا ہے ۔ 

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 578