کلچرل شگوفے

ہم میں مذہب کا فرق نہیں ہے ۔ اس میں ہماری تسلیم بھی مشترکہ ہے اور رضا بھی مشترکہ  لیکن ہم خط بنواتے ہیں ۔ ہم داڑھی کو موٹی مشین لگواتے ہیں ۔ تم محرم میں روز مرہ کے کپڑے پہنتے ہو ہم سیاہ لباس پہنتے ہیں ۔  تم اپنی مولوی کو مولانا کہتے ہو ۔ ہم علامہ کہتے ہیں ۔ ہمارا بنیادی مذہب تو ایک ہے لیکن اس کے اندر کے کلچرل شگوفے مختلف ہیں ۔ آؤ ہم چھانٹ چھانٹ کر اور بین بین کر اور چمٹی سے پکڑ پکڑ کر ان ثقافتی اختلافات کو لہرائیں اور ایک دوسرے سے لڑیں ۔ 
تم بھی اللہ کا ذکر کرتے ہو  ہم بھی کرتے ہیں ۔ تم اونچی آواز میں کرتے ہو ہم دل میں کرتے ہیں ۔ ذکر میں کوئی فرق نہیں ۔ الفاظ میں کوئی تفاوت نہیں ۔ ادائی میں ہمارا تمہارا کلچرل پیٹرن مختلف ہے اس لیے آؤ جھگڑا کریں ۔ یہ جھگڑے تو ثقافتی اختلافات کے ہیں لیکن آؤ انہیں مذہب کے کھاتے میں ڈال دیں ۔  

اشفاق احمد زاویہ 3 کلچر اور پیوند کاری صفحہ 276