نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کلچرل شگوفے

ہم میں مذہب کا فرق نہیں ہے ۔ اس میں ہماری تسلیم بھی مشترکہ ہے اور رضا بھی مشترکہ  لیکن ہم خط بنواتے ہیں ۔ ہم داڑھی کو موٹی مشین لگواتے ہیں ۔ تم محرم میں روز مرہ کے کپڑے پہنتے ہو ہم سیاہ لباس پہنتے ہیں ۔  تم اپنی مولوی کو مولانا کہتے ہو ۔ ہم علامہ کہتے ہیں ۔ ہمارا بنیادی مذہب تو ایک ہے لیکن اس کے اندر کے کلچرل شگوفے مختلف ہیں ۔ آؤ ہم چھانٹ چھانٹ کر اور بین بین کر اور چمٹی سے پکڑ پکڑ کر ان ثقافتی اختلافات کو لہرائیں اور ایک دوسرے سے لڑیں ۔ 
تم بھی اللہ کا ذکر کرتے ہو  ہم بھی کرتے ہیں ۔ تم اونچی آواز میں کرتے ہو ہم دل میں کرتے ہیں ۔ ذکر میں کوئی فرق نہیں ۔ الفاظ میں کوئی تفاوت نہیں ۔ ادائی میں ہمارا تمہارا کلچرل پیٹرن مختلف ہے اس لیے آؤ جھگڑا کریں ۔ یہ جھگڑے تو ثقافتی اختلافات کے ہیں لیکن آؤ انہیں مذہب کے کھاتے میں ڈال دیں ۔  

اشفاق احمد زاویہ 3 کلچر اور پیوند کاری صفحہ 276

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…