کھوئی ہوئی محبت

پہاڑوں میں ، کھوئی ہوئی محبتیں اور بھولی ہوئی یادیں پھر لوٹ آتی ہیں۔جس طرح بارش کے دنوں میں باہر بوندیں پڑتی ہیں، تو انسان کے اندر بھی بارش ہونے لگتی ہے ۔اوپر سے تو ٹھیک رہتا ہے،لیکن اندر سے بالکل بھیگ جاتا ہے۔اس قدر شرابور کہ آرام سے بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں باقی نہیں رہتی ۔یہی کیفیت پہاڑوں میں جا کر ہوتی ہے۔کیسا بھی اچھا ساتھ کیوں نہ ہو انسان تنہا ہو کر رہ جاتا ہے۔اور اداسی کی دھند اسے چاروں طرف سے لپیٹ لیتی ہے۔اندر آہستہ آہستہ اندھیرا چھانے لگتا ہے اور باہر کیسی بھی دھوپ کیوں نہ کھلی ہو، کیسی بھی ٹھنڈی ہوا کیوں نہ چل رہی ہو اندر ٹپاٹپ بوندیں گرنے لگتی ہیں،اور شدید بارش ہو جاتی ہے۔اور اندر سے بھٹکا ہوا انسان باہر کے آدمیوں کے کام کا نہیں رہتا۔ان کا ساتھی نہیں رہتا ۔  

اشفاق احمد سفر در سفر  صفحہ 25