خوشی کا سفر

خوشی ایسے میسر نہیں آتی کہ کسی فقیر کو دو چار آنے دے دیے ۔ خوشی تب ملتی ہے جب آپ اپنی خوشیوں کے وقت سے وقت نکال کر انہیں دیتے ہیں جو دکھی ہوتے ہیں ۔ اور آپ کو ان دکھی لوگوں سے کوئی دنیاوی مطلب بھی نہیں ہوتا ۔ آپ اپنی خوشیوں کا گلا گھونٹ کر جب پریشان حالوں کی مدد کرتے ہیں تو خوشی خودبخود آپ کی طرف سفر شروع کر دیتی ہے ۔ کوئی چیز آپ کو اتنی خوشی نہیں دے سکتی جو خوشی  آپ کوکسی روتے ہوئے کی مسکراہٹ دے سکتی ہے ۔ 

اشفاق احمد زاویہ 3 رویوں کی تبدیلی صفحہ 25