خوشی کا راز

اگر آپ معمولی باتوں کی طرف دھیان دیں گے ، اگر آپ اپنی " کنکری " کو بہت دور تک جھیل میں پھینکیں گے، تو بہت بڑا دائرہ پیدا ہوگا ۔ لیکن آپ کی آرزو یہ ہے کہ آپ کو بنا بنایا بڑا دائرہ کہیں سے مل جائے ۔ اور وہ آپ کی زندگی میں داخل ہو جائے ۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے ۔ 
قدرت کا ایک قانون ہے جب تک آپ چھوٹی چیزوں پر ، معمولی باتوں پر ، جو آپ کی توجہ میں کبھی نہیں آئیں، اپنے بچے پر ، اپنے بھانجے  پر ، اور اپنے بھتیجے پر آپ جب تک اس کی چھوٹی سی حرکت پر خوش نہیں ہونگے تو آپ کو دنیا کی کوئی چیز یا دولت خوشی عطا نہیں کر سکے گی ۔ روپے ، پیسے سے آپ کوئی کیمرہ خرید لیں ، خواتین کپڑا خرید لیں اور وہ یہ چیزیں خریدتی چلی جاتی ہیں کہ یہ ہمیں خوشی عطا کریں گی ۔ لیکن جب وہ چیز گھر میں آ جاتی ہے تو اس کی قدر و قیمت گھٹنا شروع ہو جاتی ہے ۔
خوشی تو ایسی چڑیا ہے جو آپ کی کوشش کے بغیر آپ کے دامن پر اتر آتی ہے ۔ اس کے لیے آپ نے کوشش بھی نہیں کی ہوتی ۔ تیار بھی نہیں ہوئے ہوتے ، لیکن وہ آجاتی ہے ۔
اشفاق احمد زاویہ 2 خوشی کا راز صفحہ 36