محسن

میں مکھی مارنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ اس لیے مجھے بابا جی کے آنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ اچانک ان کی آواز سنائی دی ۔وہ کہنے لگے ، یہ اللہ نے آپ کے ذوقِ کشتن کے لیے پیدا کی ہے ۔ میں نے کہا جی یہ مکھی گند پھیلاتی ہے اس لیے مار رہا تھا ۔ کہنے لگے یہ انسان کی سب سے بڑی محسن ہے اور تم اسے مار رہے ہو ۔ میں نے کہا جی یہ مکھی کیسے محسن ہے ؟ کہنے لگے ، یہ بغیر کوئی کرایہ لیے بغیر کوئی ٹیکس لیے انسان کو یہ بتانی آتی ہے کہ یہاں پر گند ہے اس کو صاف کر لو تو میں چلی جاؤں گی اور آپ اسے مار رہے ہیں ۔ آپ پہلے جگہ کی صفائی کر کے دیکھیں یہ خودبخود چلی جائی گی ۔
اشفاق احمد زاویہ 2 خوشی کا راز صفحہ 36