بھیڑ بکریاں

اگلے زمانے میں سکے کی جگہ بھیڑ بکریاں اور مویشی  دولت کی نشانی تھے ۔ جس کے پاس زیادہ مال ہوتا وہی مالدار کہلاتا تھا ۔ مگر اس میں ایک بات کا خیال رکھا جاتا تھا کہ کسی بھی شخص کے ڈھور ڈنگر اور مال مویشی سردار کے مال سے زیادہ نہ ہوں ۔ آج کے دور میں تجارتی ادارے مال مویشی کی جگہ سکے سے کام لیتے ہیں ۔ ادارے کے کارندوں کو اچھے اچھے القاب اور ڈیزگنیشن دی جاتی ہیں ۔ لیکن اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ ان کو سکوں کی صورت میں زیادہ معاوضہ نہ دیا جائے کیونکہ زیادہ معاوضہ صرف مالکان ادارہ کا حق ہے اور ان کے کوئی کام نہ کرنے کے باوجود ہوتا ہے۔ 

اشفاق احمد زاویہ 3 کارپوریٹ سوسائٹی صفحہ 298