" ٹھپہ "

یہ بھی اللہ کی مہربانی ہے کہ اس نے ایک راستہ رکھا ہوا ہے توبہ کا ۔ کئی آدمی کہتے ہیں کہ نفل پڑھیں ، ورد وظیفہ کریں ، لیکن یہ اس وقت تک نہیں چلے گا جب تک آپ نے اس کیے ہوئے برے کام سے توبہ نہیں کر لی۔ جیسے آپ کاغذ لے کے نہیں  جاتے " ٹھپہ " لگوانے کے لیے ۔ کوئی ٹھپہ لگا کر دستخط کر دے تو پھر آپ کا کام ہو جاتا ہے ۔ اس طرح " توبہ " وہ ٹھپہ ہے جو لگ جاتا ہے اور بڑی آسانی سے لگ جاتا ہے ۔ اگر آپ تنہائی میں دروازہ بند کر کے بیٹھیں اور اللہ سے کہیں کہ " اللہ تعالیٰ پتہ نہیں مجھے کیا ہوگیا تھا ، مجھ سے یہ غلطی، گناہ ہوگیا تھا اور میں اس پر شرمندہ ہوں "۔  بس آپ سے معافی چاہتا ہوں ۔ 

اشفاق احمد زاویہ 2 ماضی کا البم صفحہ42