دروازہ

دروازہ اس لیے بند نہیں کرایا جاتا کہ ٹھنڈی ہوا نہ آجائے ۔ یا دروازہ کھلا رہ گیا تو کوئی جانور اندر آجائے گا ۔ بلکہ اس کا فلسفہ بالکل مختلف ہے اور وہ یہ کہ اپنا دروازہ ، اپنا وجود ماضی کے اوپر بند کر دو۔ آپ ماضی سے نکل آئے ہیں اور اس جگہ حال میں داخل ہو گئے ہیں ۔ ماضی سے ہر قسم کا تعلق کاٹ دو ، بھول جاؤ کہ تم نے ماضی کیسا گذارا ہے ۔ اب تم ایک نئے مستقبل میں داخل ہو گئے ہو ۔ ایک نیا دروازہ تمہارے آگے کھلنے والا ہے ۔ 

اشفاق احمد زاویہ 2 ماضی کا البم صفحہ39