" خوش قسمت "

میں نے کہا کہ " تمہاری عمر کافی ہے اور بال بھی سفید ہو چکے ہیں ، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم باقی لوگوں کی نسبت خوش خوش ہو تمہارے چہرے سے نہیں لگتا کہ تم زندگی سے مایوس ہو ۔ کیا یہ مصنوعی ہے " ۔ 
وہ بولا " صاحب جی ! ہنس کر یا رو کر زندگی تو گذارنی ہے اگر روئیں گے تب بھی گذرے گی اور ہنسیں گے تب بھی  اگر اس نے اپنی مرضی سے ہی گذرنا ہے تو رونا کس بات کا " ۔
خواتین و حضرات ! اس کی بات سن کر مجھے لگا کہ یہ میرے سمیت  ان لاکھوں لوگوں سے زیادہ خوش قسمت ہے جو سب کچھ ملتے ہوئے بھی کچھ نہ ملنے کا روگ لیے بیٹھے ہوتے ہیں ۔
اشفاق احمد زاویہ 3  بابا قطبہ صفحہ 18