" تھیا تھیا "

جب تک عبادت میں سیلیبریشن نہیں ہوگی ، جشن کا سماں نہیں ہوگا  جیسے وہ بابا کہتا ہے  " تیرے عشق نچایا  کر کے تھیا تھیا "  چاہے سچ مچ نہ ناچیں لیکن اندر سے اس کا وجود اور روح  " تھیا تھیا "   کر رہی ہو ۔ جب تک تھیا تھیا نہیں کرے گا بات نہیں بنے گی ۔ اس طرح سے نہیں کہ نماز کو لپیٹ کر "  " چار سنتاں ، فیر چار فرض ، دو سنتاں ، دو نفل  فیر تین وتر "  چلو جی رات گذری فکر اترا ۔ نہیں جی ! یہ تو عبادت نہیں ۔ ہم تو ایسی ہی عبادت کرتے ہیں اس لیے تال میل نہیں ہوتا ۔ 

اشفاق احمد زاویہ 2  سلطان سنگھاڑے والا صفحہ 70