نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

July, 2013 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

" کاکر ، کوکر "

شاہ حسین کہتے ہیں کہ جس  " نگری وچ  ٹھاکر ناہیں وہ کاکر کوکر بستی ہے " ۔
یعنی جس بستی ، جس شہر میں کوئی مرشد نہیں ، ہادی نہیں وہ بستی کتوں اور مرغوں کی بستی ہے ۔ جو خواہ مخواہ بھونکتے رہتے ہیں ۔ خواہ مخواہ بانگیں دیتے رہتے ہیں ۔ اک شور مچا رہتا ہے ۔

 اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 384

" غلاف "

آپ کبھی فجر کی نماز کے بعد کسی ان پڑھ  عام سے کپڑے پہنے کسی دیہاتی کو جسے وضو اور غسل کے فرائض سے بھی شاید پوری طرح واقفیت نہ ہو وہ جب نماز کے بعد قرآن شریف پڑھنے کے لیے کھولے گا تو قرآن پاک کا غلاف کھولنے سے پہلے پہلے دو بار اسے آنکھوں سے لگائے گا ۔ اور چومے گا ۔ اس کی اس پاک کتاب سے عقیدت اور محبت دیدنی ہوتی ہے ۔ وہ قرآن پاک  میں لکھی عربی کی آیات کی معانی سے واقف نہیں ہوتا لیکن وہ جس محبت سے اسے پڑھ رہا ہوتا ہے وہ قابلِ رشک ہوتا ہے ۔
اشفاق احمد زاویہ 3 لچھے والا صفحہ 29

" نورا غفورا "

فرض کریں کہ کسی میں کوئی خرابی ہے محلے کا کوئی دوکاندار کم تولتا ہے ۔ ہیرا پھیری کرتا ہے تو بجائے اسے کچھ کہنے کے طعنہ دینے کے ، یا برا بھلا کہنے کے ِ اپنے گھر میں جائے نماز بچھا  کر دو  نفل پڑھیں اور خدا سے دعا کریں کہ  " اے اللہ تعالیٰ یہ نورا  غفورا یا جو بھی دوکاندار ہے تو اس کی مدد کر اور اس میں سے فلاں خرابی نکال
دے "۔
آپ کو سات دن نہیں لگیں گے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کا راستہ سیدھا ہونے لگے گا  اگر آپ اس کی ناک میں دم کریں گے اسے کوسنے دیں گے بے ایمان کہیں گے تو بات مزید خراب ہو جائے گی ۔ اشفاق احمد  زاویہ 3 مسٹر بٹ سے اسلامی بم تک صفحہ 169

" عمرو عیار "

محبت ہمیشہ سفید لباس میں عمرو عیار ہے ۔ ہمیشہ دوراہوں پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے ۔ اس کی راہ پر ہر جگہ راستہ دکھانے کو صلیب کا نشان گڑا ہوتا ہے ۔ محبت جھمیلوں میں کبھی فیصلہ کن سزا نہیں ہوتی ہمیشہ عمر قید ہوتی ہے ۔ محبت کا مزاج ہوا کی طرح ہے کہیں ٹکتا نہیں ۔ محبت میں بیک وقت جوڑنے اور توڑنے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔ محبت ہر دن کے ساتھ اعادہ چاہتی ہے ۔ جب تک روز اس تصویر میں رنگ نہ بھرو تصویر فیڈ کرنے لگتی ہے ۔ روز سورج نہ چڑھے تو دن نہیں ہوتا ۔ جس روز محبت کا سورج طلوع نہ ہو تو اندھیرا ہی ہوتا ہے ۔
 بانو قدسیہ  " راجہ گدھ " سے اقتباس

" منشا "

منشا سرکاری یہی ہے کہ انسان اپنے آپ کو نہ دیکھے ۔ جیسے آنکھ سارے جہاں کو دیکھتی ہے مگر اپنے آپ کو نہیں دیکھ سکتی۔ اسی طرح ناک ہر شے کی خوشبو اور بدبو سونگھتی ہے سوائے اپنے پیٹ کی بد بو کے ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں اگر فضلِ خدا شامل حال ہو اور کوئی مردِ خدا اپنے وجود کی سیر کرا دے تو  سبحان اللہ ۔ ۔ ۔  ۔ نور اللہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 523

" جان اور مال "

ایسے شخص کی حالت پر نہایت افسوس ہوتا ہے جو قرآن اور حدیث پڑھ کر بھی جان اور مال کی محبت رکھے ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 618

"بے حقیقت "

میں جس شے کا خواہشمند ہوں ، وہ مجھے جب نہیں ملتی تو میں بڑا مایوس اور دلبرداشتہ ہو جاتا ہوں ۔ اس مایوسی کا کوئی علاج ہے ؟
ذرا سوچو کہ وہ چیزیں اور وہ صورتیں اور وہ لوگ جن پر تم جان چھڑکتے تھے ، اور وہ تمہارے لیے بہت ہی قیمتی تھے اب وقت گذرنے پر وہ اس قدر کم قیمت کیوں ہو گئے بے حقیقت کیوں ہو گئے تمہاری نظروں سے گر کیوں گئے ۔ تم دیکھو گے کہ ان سب چیزوں کی قدر و قیمت  صرف تمہارے  ذہن میں تھی اصل میں یہ اس قدر قیمتی نہ تھے ۔ اب تمہارا ذہن تبدیل ہو گیا اور یہ سب بھی ختم ہو گئے ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 526

" تین کام "

اگر انسان تین کام کر لے تو انشاء اللہ  محروم نہیں ہوگا ۔ خواہ جنید  بغدادی نہ بن سکے ۔ اول یہ کہ گناہ کا ارتکاب ترک کر دے ۔کیونکہ گناہگار اگر عبادت بھی کرتا رہے تو اس کا نور تاریکی کے ساتھ گندھا ہوا ہوگا ۔ اور اس کو روشنی مل سکے گی ۔ دوسرے خلق پر بد گمان نہ ہو کیونکہ یہ بد گمانی ہمیشہ کبر و نخوت سے پیدا ہوتی ہے ۔ (اور کبر اور نخوت شیطان اور فرعون کی خصوصیت ہے  ) ۔ اور تیسرے جب بھی فرصت ملے تھوڑا بہت اللہ کا ذکر کر لیا کرے ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 618

" بابو لوکا "

اوئے بابو لوکا ! فقیری کا نشان خاک ہوتا ہے ۔ راکھ ہوتا ہے ۔ جس طرح راکھ خوشبو اور بدبو دونوں کو ڈھانپ لیتی ہے ، اسی طرح فقیر بھی لوگوں کے عیب ، ثواب اور نیک و بد پر نظر نہیں کرتا ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 523

" وینٹی باکس "

اگر لوگوں کے ساتھ امن و سکون کی آرزو ہے تو لڑائی بند کر دیں ۔ اپنے راستے پہ چلتے جائیں ، اپنے کام کرتے جائیں ۔ اگر کوئی آپ کے ساتھ چلتا ہے تو ٹھیک ہے  اگر کوئی نہیں چلنا چاہتا تو سبحان اللہ ۔ آپ خود ہی اکیلے چلتے جائیں ۔ درور شریف آتا ہو تو وہ روح میں اتارتے جائیں ۔ اپنی پورٹیبل جنت اپنے ساتھ رکھیں جس طرح لڑکیاں اپنا وینٹی باکس اپنے ساتھ رکھتی ہیں ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 509

" گیان "

خدا کی عبادت ، خدا کے بارے میں سوچ اور خدا کے بارے میں مجلس آرائی ہمیں خدا تک نہیں پہنچاتی ۔ خدا تک پہنچنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے خاموشی ۔ دھیان ، مراقبہ ۔ یہ وقفہ ایک منٹ کے ہزارویں حصے تک بھی محیط ہو سکتا ہے ایک پلک جھپکنے پر بھی ۔ جونیہ ذہن پر سکون ہوا خدا کا گیان مل گیا ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 489

" عفریت "

عفریت نے کہا ، میں تمہیں اس صورت میں واپس جانے دوں گا  اگر تم میرے سوال کا اب دو گے اور میری تسلی کرو گے ۔  سیانے نے اثبات میں سر ہلایا اور اسی طرح کھڑا رہا ۔
عفریت بولا اس کائنات میں سب سے اعلیٰ و افضل مقام کونسا ہے جہاں زندگی بھرپور انداز میں بسر کی جا سکے ۔
سیانے نے سوچا اگر میں کسے خوبصورت دلفریب شہر کا نام لیتا ہوں جہاں دنیا بھر کے ٹورسٹ کشاں کشاں جاتے ہیں تو یہ اپنے مسکن کے حوالے سے ناراض ہو جائے گا ۔
اگر میں عرشِ بریں اور جنت اور بہشت کا ذکر کرتا ہوں تو ایک عفریت کا ادھر گزر ہی ممکن نہیں ۔
سیانے  نے سر جھکا کر کہا  " صاحبِ سوراخ ! اس کائنات کا اعلیٰ ترین مقام وہ ہے ، جہاں آپ خوش رہیں ، سکھی رہیں ، اور پرباش رہیں چاہے وہ اس کرہ عرض کے اندر ایک بل ہی کیوں نہ ہو ۔
 اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 408

" تلوار "

جب نپولین فریڈرک کی قبر پر گیا تو اس نے دیکھا کہ فریڈرک کی تلوار اس پر لٹک رہی ہے ۔ اس نے تلوار  اتروائی اور کہا کہ میں اسے پیرس کی عجائب خانے کی نذر کروں گا ۔ کیونکہ ایسی تاریخی تلوار عجائب گھر میں رہنی چاہیے ۔ تو اس کے ساتھ جو جرنیل تھا اس نے خوشامدانہ لہجے میں کہا کہ " سرایسی نامور تاریخی تلوار تو آپ کے پاس رہنی چاہیے  " ۔
اس پر نپولین نے اپنی تلوار پر ہاتھ مارا اور کہا کہ " کیا میرے پاس میری تلوار نہیں ہے کہ میں کسی کی اٹھاتا پھروں " ۔
اشفاق احمد  زاویہ 3  ہم زندہ قوم ہیں  صفحہ 149

" سیڑھی اور پھٹا "

چھت پر چڑھنے کے دو طریقے ہیں ایک تو سیڑھی لگا کے زینہ بہ زینہ ۔ اور دوسرا پھٹا لگا کے ڈھلوان پر آگے بڑھ بڑھ کے ۔ اوپر اٹھ اٹھ کے ۔ سیڑھی والا تو یہ دیکھ گا کہ میں اتنے ڈنڈے چڑھ گیا اور اتنے باقی ہیں اور پھٹے والا دیکھے گا کہ ابھی چھت بہت دور ہے اور ابھی بہت سا کام باقی ہے ۔ یہی حال دین کا ہے کچھ لوگ تو سمجھتے ہیں اللہ کی طرف بڑھنے میں اتنے ڈنڈے چڑھ گئے ہیں ۔ اس کا شکر ہے اور ہمیں بھی شاباش ہے کہ ہم نے اتنی کوشش کر لی ۔ اب دو تین ڈنڈے باقی ہیں وہ بھی طے کر لیں گے ۔ لیکن پھٹے لگا کر چڑھنے والا کہتا ہے کہ ابھی تک پتہ نہیں کہ منزل کتنی دور رہ گئی ہے جب تک اوپر نہیں پہنچا جاتا ہم یہی سمجھیں گے کہ منزل ابھی بہت دور ہے ۔ اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 402

" تکبر اور ابلیس "

تکبر کا حاصل مایوسی ہے ۔ جب ابلیس اس بات پر مُصر ہوا کہ  وہ مٹی کے پتلے کو سجدہ نہیں کر سکتا ، تو وہ تکبر کی چوٹی پر تھا ۔ لیکن جب تکبر ناکامی سے دو چار ہوا تو ابلیس اللہ کی رحمت سے نا امید ہوا حضرت آدمؑ بھی ناکام ہوئے تھے، وہ بھی جنت سے نکالے گئے مگر وہ مایوس نہیں ہوئے ۔ بانو قدسیہ  ابنِ آدم سے اقتباس  بشکریہ : سالار احمد

" محبت اور شرک "

محبت میں ذاتی آزادی کو طلب کرنا شرک ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بیک وقت دو افراد سے محبت نہیں کی جا سکتی۔ ۔ ۔ ۔  محبوب سے بھی اور اپنی ذات سے بھی ۔
محبت غلامی کا عمل ہے اور آزاد لوگ غلام نہیں رہ سکتے ۔
بانو قدسیہ  حاصل گھاٹ سے اقتباس  بشکریہ: سالار احمد

" ابلیس اور انسان "

جب ابلیس نے حضرت آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تو ابلیس نے دعوا کیا کہ وہ انسان کو بہکائے گا ۔  اور اسے اللہ کی رحمت سے مایوس کرے گا ۔ باری تعالیٰ نے روزِ قیامت تک ابلیس کو مہلت دی ۔ ابلیس کا دعوا بے بنیاد نہ تھا ، پتہ ہے ابلیس کیا کرتا ہے ، اس کی کاروائی کا طریقہ کیا ہے ؟
ابلیس انسان کے نفس سے ساز باز کرتا ہے ، نفس میں امنگ ، خواہش ، ضرورت کو جگاتا ہے ۔ جس قدر خواہش نا ممکن ہوگی اس قدر ابلیس اسے عین ممکن کر دکھائے گا ۔  نفس اس قدر غالب آجائے گا کہ وہ پورے انسان کو بڑے کنویں جھنکوائے گا ۔ کبھی پیروں فقیروں کے پیچھے ، کبھی مزاروں کے طواف ، کبھی اللہ کے حضور میں انسان اپنی خواہش کی عرضی ڈالے گا جوں جوں خواہش کے پورے ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں انسان اللہ کی رحمت سے مایوس ہوتا جائے گا ۔ دولت کی ہوس ، نام و نمود کی خواہش عورت کا آزار ، ایک کارخانہ کھلا ہے نفس کے اندر ۔ وہ امید دلا دلا کر ، کوشش  پر آمادہ کر کے خواہش کے جال میں انسان کو اللہ کی رحمت سے مایوس کرتا ہے جونہی انسان اللہ کی رحمت سے مایوس ہوتا ہے ، ابلیس اغوا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ۔  پتہ نہیں انسان کے قلب پر کیا کیا گذرتی…

"نفسیات "

بہت سے لوگوں کے پاس دین کا اور نفسیات کا بڑا علم ہوتا ہے ۔ لیکن ان کی زندگیاں بڑی خالی ہوتی ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صرف باہر کا علم انسان کے اندر کو تبدیل نہیں کر سکتا ۔ ہر شخص جانتا ہے کہ ظلم سے ظلم پیدا ہوتا ہے پھر بھی ہر شخص دوسرے پر ظلم کرتا ہے ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 532 

" سب ٹھیک "

ایک روز ہم ڈیرے پر بیٹھے تھے کہ ایک اچھی پگڑی باندھنے والے شستہ قسم کے مرید نے پوچھا  " بابا جی بات یہ ہے کہ انسان اپنی محنت اور کوشش سے تو کہیں نہیں پہنچتا ، اس کے اوپر ایک خاص قسم کا کرم ہوتا ہے اور اسے کوئی چیز عطا کر دی جاتی ہے اور پھر وہ اعلیٰ مقام پر فائز ہو جاتا ہے " ۔  اس پر بابا جی نے کہا ، " شاباش تک ٹھیک کہہ رہے ہو " ۔  وہ شخص بات سن کر بہت ہی خوش ہوا ۔ ایک دوسرا مرید یہ ساری باتیں سن رہا تھا ۔ وہ ذرا تگڑا آدمی تھا ۔ اس نے کہا کہ یہ غلط بات ہے انسان کو جو کچھ بھی ملتا ہے اپنی جدوجہد سے ملتا ہے اسے کچھ پانے کے لیے  کوشش کرنی پڑتی ہے ۔ اسے حکم ماننا پڑتا ہے ۔ آرڈر کے مطابق چلنا پڑتا ہے ۔ اس نے کہا کہ پیغمبروں کو بھی ایک مخصوص پیٹرن پر چلنا پڑا اور کوشش کرنی پڑی پھر جا کر ایک مقام  ملا ۔ ایسے مقام نہیں ملتے ۔  بابا جی نے اسے بھی کہا کہ ، " شاباش تو ٹھیک کہتا ہے " ۔  وہاں پر ایک تیسرا مرید جو جو لنگر کے برتن صاف کر رہا تھا اسے یہ سن کر بہت عجیب سا لگا اور کہنے لگا کہ ، " بابا جی آپ نے حد کر دی یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ دونوں کی بات ہی ٹھیک ہو  …

" کند ذہن "

ہمارے بابا جی نور والے کہا کرتے تھے جس انسان کو ایسی حالت میں دیکھو  کہ وہ عام لوگوں کی طرح کا ذہن نہیں رکھتا یا کند ذہن ہے تو اسے بھول کر بھی پاگل نہ کہو ، اگر اس کی مدد نہیں کر سکتے یا اس کے ساتھ نیکی نہیں کر سکتے تو اس کے سامنے مت آؤ ۔ ایسے لوگوں سے ہمیشہ صلہ رحمی سے پیش آؤ ۔ یہ لوگ خدا کے بہت قریب ہوتے ہیں ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  لچھے والا صفحہ 30

" دریا ، بادل "

آدمی زندگی کی کامیابیوں پر پھولا نہیں سماتا ، اور ہر ایک کو ٹھونگے مارتا رہتا ہے ۔ یہ نہیں جانتا کہ کامیابی کے ساتھ ناکامی بھی وابستہ ہے ۔ زندگی بڑی عجیب شے ہے ، یہ لیتی بھی ہے اور دیتی بھی ہے ۔ سمندروں کو دریا بھی دیتی ہے اور سمندروں سے بادل بھی لیتی ہے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 599

" اعلان "

فقیر لوگ کہا کرتے ہیں جس جگہ کی توفیق نہ ہو اس کا اعلان نہیں کرنا چاہیے ۔ 
بانو قدسیہ  حاصل گھاٹ

" اکیلا پن "

جب قافلوں کا زمانہ تھا اور لوگ سفر اختیار کرنے کے لیےہفتوں مہینوں بلکہ سالوں تک ہمسفروں اور کاروانوں کا انتظار کیا کرتے تھے کہ کب آئیں یا کب روانہ ہوں ، تو شریک سفر ہوں ۔ یہ قافلے اور کاروان دورانِ سفر ایک فرد کے لیے ٹھہر جایا کرتے تھے اور اس وقت تک ٹھہرے رہتے تھے جب تک کہ فرد کی ضرورت   پوری نہ ہو جاتی تھی ۔ یہ اجتماعی دور تھا اور آدمی ایک دوسرے کی لڑی میں پروئے ہوئے نیچر کے ساتھ بندھے تھے ۔ لیکن جب انفرادیت کا دور آیا تو فرد ایک دوسرے سے الگ ہو کر منفرد ہو گئے ۔ منفرد سوچ ، منفرد مزاج ، منفرد شوق ، منفرد پسند اس انفرادیت نے انسان کو بڑے خوشنما اور رنگین تحفے عطا کیے ۔ اس کے وجود میں ہنس اور سرخاب کے پر نکل آئے ۔ لیکن وہ اکیلا ہو گیا ۔ خوفناک اور زور آور دنیا کا سامنا کرنے کے لیے بےیار و مددگار ، یکہ و تنہا ۔
اشفاق احمد سفر در سفر  صفحہ 97