" سب ٹھیک "

ایک روز ہم ڈیرے پر بیٹھے تھے کہ ایک اچھی پگڑی باندھنے والے شستہ قسم کے مرید نے پوچھا  " بابا جی بات یہ ہے کہ انسان اپنی محنت اور کوشش سے تو کہیں نہیں پہنچتا ، اس کے اوپر ایک خاص قسم کا کرم ہوتا ہے اور اسے کوئی چیز عطا کر دی جاتی ہے اور پھر وہ اعلیٰ مقام پر فائز ہو جاتا ہے " ۔ 
اس پر بابا جی نے کہا ، " شاباش تک ٹھیک کہہ رہے ہو " ۔ 
وہ شخص بات سن کر بہت ہی خوش ہوا ۔ ایک دوسرا مرید یہ ساری باتیں سن رہا تھا ۔ وہ ذرا تگڑا آدمی تھا ۔ اس نے کہا کہ یہ غلط بات ہے انسان کو جو کچھ بھی ملتا ہے اپنی جدوجہد سے ملتا ہے اسے کچھ پانے کے لیے  کوشش کرنی پڑتی ہے ۔ اسے حکم ماننا پڑتا ہے ۔ آرڈر کے مطابق چلنا پڑتا ہے ۔ اس نے کہا کہ پیغمبروں کو بھی ایک مخصوص پیٹرن پر چلنا پڑا اور کوشش کرنی پڑی پھر جا کر ایک مقام  ملا ۔ ایسے مقام نہیں ملتے ۔ 
بابا جی نے اسے بھی کہا کہ ، " شاباش تو ٹھیک کہتا ہے " ۔ 
وہاں پر ایک تیسرا مرید جو جو لنگر کے برتن صاف کر رہا تھا اسے یہ سن کر بہت عجیب سا لگا اور کہنے لگا کہ ، " بابا جی آپ نے حد کر دی یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ دونوں کی بات ہی ٹھیک ہو  کسی ایک کی بات تو غلط ہونی چاہیے " ۔
یہ سن کر بابا جی  نے کہا ،  " شاباش تو بھی ٹھیک کہتا ہے " ۔
یہ زندگی کی بات ہے جو بندے کی پکڑ میں نہیں آتی اور یہ جس کی پکڑ میں آتی ہے وہ اس کی سوچ ، کوشش اور دانش کے رویے کے مطابق اس کے ہاتھوں میں بنتی رہتی ہے ۔

اشفاق احمد زاویہ 3 دو بول محبت کے صفحہ 51