طالب ، مطلوب


اشفاق احمد صاحب سناتے تھے کے اک بار وہ اپنے بابا جی سے بحث میں الجھ گئے کہتے تھے میں ان سے بہت سوال کرتا تھا . بابا جی بھی ان کو سمجھاتے تھےکہ دنیا کی کوئی بھی چیز ساکت نہیں ، یہ سورج چاند ستارے سب اپنے اپنے محور میں گھوم رہے ہیں اور اشفاق صاحب بضد تھے کے جدید علم کی روشنی میں سورج ساکت ہے اور زمین اس کے گرد گھومتی ہے، بابا جی نے آخر کہا اشفاق میاں ! صرف مطلوب ساکت ہوتا ہے۔ سب طالب اس کے گرد گھومتے ہیں ، اشفاق صاحب کہتے ہیں کہ میں جدید دنیا کا رہنے والا پڑھا لکھا انسان تھا ، میں نے بابا جی کی یہ دلیل نہیں مانی جو انہوں نے قرآن اور تصوف کی روشنی میں دی تھی ، مگر طالب اور مطلوب کی نسبت کا یہ جملہ مجھے پسند آیا ۔

 آپا بانو قدسیہ  راہ رواں