" نعوذ باللہ "

مثال کے طور پر یہ سمجھ لیجے کہ ایک تو کوئی دوست برابر کا اور یارِ قدیم کوئی حکم کرے تو اس کی وجہ پوچھتے ہیں ۔ اور اگر کوئی حاکم حکم کرے تو ہر گز وجہ دریافت نہیں کرتے من و عن تسلیم کرلیتے ہیں ۔ چنانچہ جب خدا تعالیٰ کے احکام کی وجہ دریافت کی جاتی ہے تو شبہ یہ پڑتا ہے کہ ان کے دل میں حق تعالیٰ کی عظمت نہیں ہے ۔ اور وہ ( نعوذ باللہ ) خدا کو برابر کا جانتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 616