" کمال "


انسان کو جس چیز میں کمال حاصل ہوتا ہے - اس پر مرتا ہے  ۔
چنانچہ دھنتر دید کو سانپ پکڑنے میں کمال تھا - اس کو سانپ نے کاٹا اور مر گیا۔
ارسطو سل کی بیماری میں مرا ۔
افلاطون فالج میں ۔
لقمان سرسام میں اور جالینوس دستوں کے مرض میں۔
حالانکہ انہی بیماریوں کے علاج میں کمال رکھتے تھے ۔
اسی طرح جس کو جس سے محبّت ہوتی ہے ، اسی کے خیال میں جان دیتا ہے ۔
قارون مال کی محبّت میں مرا ۔
مجنوں لیلیٰ کی محبّت میں ۔
اسی طرح طالب خدا کو خدا کی طلبی کی بیماری ہے وہ اسی میں فنا ہو جاتا ہے ۔

 اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ ٤٠٩