" حُبِ جاہ "

بابا  جی  نے  فرمایا  کہ  جب الله  کسی بندے  کیساتھ  خیر  چاہتے  ہیں تو ایسے اسباب غیب سے پیدا  فرما دیتے ہیں ۔

جس سے اس کے  امراض  نفسانیہ  مثلاً " حب جاہ " کا علاج ہوتا ہے مثلاً اس پر کوئی مرض مسلط ہو جاتا ہے۔ 

 یا کوئی دشمن مسلط کر دیا جاتا ہے جو اسے کوئی بدنامی کی ایذا پہنچاتا ہےاس بدنامی سے وہ شخص رسوا ہوتا 

ہے۔ اول اول تو یہ نفس کو نہایت نا خوشگوار گزرتا ہے۔

مگر جب وہ صبر و رضا اختیار کر لیتا ہے تو پھر اس میں ایسی قوت تحمل پیداہو جاتی ہے کہ بدنامی کو بڑے 

شوق سے برداشت کرنے لگتا ہے۔

 پھر الله تعالیٰ اس کو قبول  عام اور عزت نصیب فرماتے ہیں جس میں اس کو ناز نہیں ہوتا   اب گویا ، جاہ عظیم میسر 

ہوتی ہے اور جاہ پسندی فنا ہو جاتی ہے ۔






 اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ  411