نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

September, 2013 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اللہ کے ساتھ دوستی

ہم کمزور لوگ ہیں جو ہماری دوستی اللہ کے ساتھ ہو نہیں سکتی۔ جب میں کوئی ایسی بات محسوس کرتا ہوں یا سُنتا ہوں تو پھر اپنے "بابوں" کے پاس بھاگتا ہوں۔ میں نے اپنے بابا جی سے کہا کہ جی ! میں اللہ کا دوست بننا چاہتا ہوں۔ اس کا کوئی ذریعہ چاہتا ہوں۔ اُس تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ یعنی میں اللہ والے لوگوں کی بات نہیں کرتا۔ ایک ایسی دوستی چاہتا ہوں، جیسے میری آپ کی اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ ہے،تو اُنہوں نے کہا "اپنی شکل دیکھ اور اپنی حیثیت پہچان، تو کس طرح سے اُس کے پاس جا سکتا ہے، اُس کے دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اُس کے گھر میں داخل ہو سکتا ہے، یہ نا ممکن ہے۔" میں نے کہا، جی! میں پھر کیا کروں؟ کوئی ایسا طریقہ تو ہونا چاہئے کہ میں اُس کے پاس جا سکوں؟ بابا جی نے کہا، اس کا آسان طریقہ یہی ہے کہ خود نہیں جاتے اللہ کو آواز دیتے ہیں کہ "اے اللہ! تو آجا میرے گھر میں" کیونکہ اللہ تو کہیں بھی جاسکتا ہے، بندے کا جانا مشکل ہے۔ بابا جی نے کہا کہ جب تم اُس کو بُلاؤ گے تو وہ ضرور آئے گا۔ اتنے سال زندگی گزر جانے کے بعد میں نے سوچا کہ واقعی میں نے کبھی اُسے بلایا ہی نہیں، کبھی…

" کمزور یادداشت "

آگے جانے والے پیچھے رہے ہوئے لوگوں کو کبھی یاد نہیں کرتے۔۔۔ جس کو کچھ مل جائے، اچھا یا برا، اس کی یاد داشت کمزور ہونے لگتی ہے۔اور جن کو سب کچھ کھو کر اس کا ٹوٹا پھوٹا نعم البدل بھی نہ ملے، ان کا حافظہ بہت تیز ہو جاتا ہے۔۔۔ اور ہر یاد بھالے کی طرح اترتی ہے۔۔۔۔
راجہ گدھ، بانو قدسیہ کے ناول سے اقتباس

"احترام "

بابا جی کہنے لگے کہ اللہ تو اس کے شہ رگ کے پاس ہے۔   اور تم اس کے ساتھ زیادتی کر رہے ہو۔ تمہیں اس کا احترام کرنا پڑے گا۔ یعنی جس بندے کی بھی شہ رگ کے پاس اللہ موجود ہے اس کا احترام کرنا آپ کا فرض ہےاب اس دن سے مجھے ایسی مصیبت پڑی ہے کہ ہمارے گھر میں جو مائی جھاڑو دینے آتی ہے، وہ بہت تنگ کرتی ہے۔ میری کتابیں اٹھا کرکبھی ادھر پھینک دیتی ہے کبھی اُدھر پھینک دیتی ہے۔ اب میں اس سے غصے بھی ہونا چاہتا ہوں لیکن کچھ کہتا نہیں ہوں۔ بانو قدسیہ کہتی ہے کہ آپ اسے جھڑک دیا کریں۔ میں اس سے کہتا ہوں کہ نہیں اس کے پاس تو اللہ ہے میں اس کو کیسے کچھ کہوں۔ مجھے اس دنیا سےمصیبتِ جاں پڑی ہوتی ہے۔ تارکِ دنیا ہو کر اللہ کو یاد نہیں کرنا بلکہ اللہ کو ساتھ رکھ کے یاد کرنا ہے۔

" قطب نما "

خان صاحب  کے بر عکس مجھے دوسروں کی دنیا  سدھارنے کا اتنا شوق ہے ،  دوسروں کو ٹھیک کرنے کا ایسا چسکا ہے کہ اپنے آپ کو ٹھیک کے بغیر میں مجبور لوگوں کو مشورے  دیے چلی جاتی ہوں ۔میری نیت ہوتی ہے کہ لوگ مجھے سراہیں ، میری تعریف کریں اور میری دانش کے قائل ہوں ۔مجھے خان صاحب کے ساتھ ایک گلا ہے جو اب وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے جہاں انھوں نے پڑھنے لکھنے میں میری مدد کی ۔میری تربیت میں اتنی تگ و دو کی وہاں مجھ سے ایک راز چھپا گئے کہ نیت کے قطب نما کو کیسے سیدھا رکھا جاتا ہے ۔اتنی بات مجھ پر عیاں ہو گئی ہے کہ نیت کی صفائی ہی سے ان میں محبّت کا چشمہ اندر ہی اندر بہنے لگا تھا ۔وہ نہ تو اس محبّت کا اعلان کرتے اور نہ ہی پرچار کرتے ۔ان کا رابطہ اپنے چاہنے والوں کے ساتھ بڑی خاموشی سے پروان چڑھاتا اور قائم رہتا ۔ان کے چلے جانے کے بعد مجھ پر یہ بھید کھلا کہ ان کے قارئین ، ناظرین ، مداحین کی چاہت بھی  کسی طور ان سے وقت کے ساتھ کم نہیں ہوئی ۔
 بانو قدسیہ  راہ رواں صفحہ ١١١ 





" غیبی طاقت "

میں سوچ بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہوں چونکہ ہمارے اندر گندا اور صاف خون اکٹھا رواں دواں ہے اور دل کی ساخت کچھ ایسی ہے کہ یہ دونوں لہو قلب میں مل نہیں پاتے ۔سنا ہے ایسے ہی جنت میں دو دریا جاری ہیں ، جو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ بہتے ہیں ۔پر ان میں ایک قدرتی آڑ ہے ۔گویا اس دوئی یا تضاد نے انسان کی ساری زندگی کو الجھاؤ کے حوالے کر دیا ہے ۔وہ مکمل طور پر فرشتہ بن جائے یہ ممکن نہیں ............مجسم ابلیس بن کر اترائے ، اور تکبر کی صورت زندگی بسر کرے یہ بھی یقینی نہیں  ۔الله نے اسے آزاد چھوڑ رکھا ہے ۔اگر ہدایت کا خواستگار ہوا تو بدی کا سفر نیکی میں منتقل ہو جائیگا .........اور بدی کے سفر سے چھٹکارا حاصل نہ کرنا چاہے تو بھی فیصلہ صرف اس کا اپنا ہے ۔غیبی طاقت اسے تبدیلی پر آمادہ تو کر سکتی ہے لیکن تھانیداری نہیں کر سکتی ۔
 بانو قدسیہ راہ رواں صفحہ ١٨٦

" انتقام "

صوفی اور درویش صبر اس لئے اختیار کرتے ہیں کہ حق تعالیٰ کو اپنے ساتھ کر لیں کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص اپنا انتقام خود لے لیتا ہے تو حق تعالیٰ سارا معاملہ اس کے سپرد کر دیتے ہیں ۔ اور جو صبر کرتا ہے اس کی طرف سےحق تعالیٰ خود انتقام لیتے ہیں ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ ٤١١

" سچا دل "

جب تک انسان سے خطا نہ ہو ، رب کی طرف سے عطا نہیں ہوتی ۔صاحبو جان لو ، جتنی بڑی خطا ہوگی ، اتنی ہی بڑی عطا ہونے والی ہے ۔بشرطیکہ ، انسان سچے دل سے توبہ کر لے ۔  
بانو قدسیہ راہ رواں صفحہ 401

" ورع "

حضرت شیخ اکبر کا ارشاد ہے کہ اعمال اور نوافل تو لوگ کثرت سے اختیار کر لیتے ہیں ، کیونکہ یہ ایک وجودی شے ہے ۔دوسرے لوگ بھی اس کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔ اس لئے نفس کو اس میں بڑا مزہ ملتا ہے ۔اس میں طلب جاہ کے مواقع بھی ملتے ہیں ۔لیکن ایسے عمل جن میں گناہوں سے رک جانا ہوتا ہے وہ نفس پر بڑے گراں گزرتے ہیں ۔مثلاً جھوٹ ترک کرنا یا غیبت سے باز رہنا ۔چونکہ ایسے گناہوں کو ترک کرنے میں شہرت اور ناموری نہیں ہوتی اس لئے ان کی طرف کوئی التفات نہیں کرتا ۔احادیث میں اس کا اہتمام زیادہ آیا ہے اور اسے ورع کہتے ہیں ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ ٦٠٨

" بڑھاپا اور جوانی "

مجھے ایک بار ٹرین سے لاھور جانے کا اتفاق ہوا میں جس ڈبے میں سفر کر رہا تھا اس میں ایک بوڑھا بھی بیٹھا تھا۔ اس کی عمر مجھ سے کافی زیادہ تھی اس کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس تھا۔ اس کے جسم سے عجیب سی سمیل   آ رہی تھی ایسے لگتا تھا کہ وہ دن بھر جسمانی مشقت کرتا رہا ہے اور بار بار کپڑے پسینے میں شرابور ہونے کی وجہ سے اس سے ایسی ھمک آ رہی ہے۔میں حسب عادت اس سے باتیں کرنے لگا گو طبیعت نہیں چاہ رہی تھا تجسس کی حس بیدار ہوئی او اس سے باتیں کرنے لگا۔میں نے پوچھا بابا کہاں جانا ہے؟وہ مسکرایا اور بولا گھر۔اب میں تلملایا بھی لیکن مجھے لگا کہ وہ کوئی عام شخص نہیں کوئی بابا ہے جو اس نے مجھے اتنا مختصر اور جامع جواب دیا ہے۔میں اس کے قریب ہو گیا اور پوچھا "جوانی اچھی ہوتی ہے کہ بڑھاپا" اس نے کہا جوانوں کے لیے بڑھاپا اور بوڑھوں کے لیے جوانی۔ میں نے کہا وہ کیسے ؟ بولا " بوڑھے اگر جوان ہو جائیں تو شاید وہ پہلے والی غلطیاں کبھی نہ دہرائیں اور اگر جوان بوڑھوںکو تجربے کے طور پر لیں تو ان کی جوانی بے داغ اور بے عیب گزرے۔ اس بوسیدہ کپڑوں والے بوڑھے نے اتنی وزنی بات کر دی ک…

" سمندر "

سنو عالیہ مرد کی محبت گہرے سمندر کی طرح ہے ۔ اس میں دریا آکر ملتے رہتے ہیں۔اسے نئے پانیوں سے بھی پیار رہتا ہے اور پرانے پانیوں سے بھی ۔یہی سمندر کی وسعت کی دلیل ہے ، اِسی میں اس کی بڑائی ہے ۔عورت جھیل ہے ۔ کھڑے پانی کی جھیل ۔۔ برا نہ ماننا ، سمندر اور جھیل میں بڑا فرق ہوتا ہے ہمیشہ  ۔
اشفاق احمد، حیرت کدہ، صفحہ 106 
بشکریہ : اینجل فاری

" دتے میں سے دینا "

کوئی دو مہینے بعد میں کراچی گیا تو انشا جی کے دفتر ملنے پہنچا ۔انشا بیٹھا کام کر رہا ہے - ہم گپ لگا رہے ہیں ۔ ادھر کی باتیں ، ادھر کی باتیں بہت خوش ۔ایک لڑکی آئی۔ اس کی صحت بہت خراب تھی ، اس کی آنکھوں میں یرقان اتنا نمایاں تھا کہ جیسے رنگ بھرا ہو پیلا ۔اس نے چھپانے کے لیےاپنی آنکھوں میں سرمے کی بہت موٹی تہہ لگا رکھی تھی تو کالا برقع اس نے پہنا ہوا ، آ کھڑی ہو گئی انشا جے کے سامنے۔اس نے ایک خط ان کو دیا وہ خط لے کر رونے لگا ۔ پڑھ کر اس لڑکی کی طرف دیکھا ، پھر میز پر رکھا ، پھر دراز کھولا ۔ کہنے لگا بیبی ! میرے پاس یہ تین سو روپے ہی ہیں ۔ یہ تم لے لو ، پھر بعد میں بات کریں گے ۔ کہنے لگی ! بڑی مہربانی ۔وہ بچکی سی ہو گئی بیچاری ، اور ڈر سے گئی ، گھبرا سی گئی ۔اس نے کہا ، بڑی مہربانی دے دیں ۔ وہ لے کر چلی گئی ۔ جب چلی گئی تو میں نے انشا سے کہا ، انشاء یہ کون تھی ؟کہنے لگا پتا نہیں ۔ میں نے کہا ، اور تجھ سے پیسے لینے آئی تھی - تو تو نے تین سو روپے دے دیے تو اسے جانتا تک نہیں ۔ کہنے لگا ، نہیں میں اتنا ہی جانتا ہوں ۔یہ خط ہے ۔ اس میں لکھا تھا ! محترم انشا صاحب میں آپ کے کالم بڑے شوق سے پڑھت…

" خدا اور دلیل "

جن لوگوں نے خدا کو عقل سے اور دلیل سے ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ اور جن لوگوں نے خدا کو دلیل سے ثابت بھی کر دیا، اور لوگ اس کو مان بھی گئے انہوں نے خدا کو دلیل کے تابع کردیا ۔ دلیل کو خدا سے افضل کردیا ۔ دلیل خدا سے بڑی ہو گئی۔ لیکن جو خدا دلیل سے ثابت ہوگیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ دلیل سے رد بھی ہو سکتا ہے ۔  چنانچہ اس دنیا میں جتنے بھی دہریے اور خدا کو نہ ماننے والے ہیں وہ خدا کو ماننے والے دلائل پسند لوگوں کی وجہ سے ہیں۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 426

" حجلہ عروسی "

عورت کی کھوپڑی در اصل حجلہ عروسی ہے ۔ اس میں ہمیشہ ڈھولک بجتی ہے ۔ پھر کمبخت چاہتی ہے کہ اسے مردوں کے برابر حقوق دیے جائیں ۔ عورت پروفیسر ہو چاہے وکیل چاہے ملک کی ادیبہ ہو یا لیڈر اس کے دماغ میں ہمیشہ عشق و عاشقی ہی ٹھنی رہتی ہے ۔  
بانو قدسیہ دست بستہ صفحہ 13 


" ناقابلِ یقین "

ایک بڑی خوبصورت دھان پان کی پتلی سی لڑکی ایک ٹوٹے سے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر انار کلی بازار آئی۔ وہاں میں اپنے دوست ریاض صاحب کی دکان پر بیٹھا ہوا تھا ۔اس لڑکی نے آ کر کہا کہ کیا آپ کے پاس کوئی اعلیٰ درجے کا عروسی جوڑا ہوگا۔تو میرے دوست نے کہا کہ جی بلکل ہے ۔ یہ دس ہزار کا ہے ۔ یہ پندرہ ہزار کا ۔ یہ بیس ہزار کا ہے ۔ پسند کر لیجئے۔ بہت اچھے ہیں ۔یہ پچیس ہزار کا بھی ہے ۔وہ کہنے لگی بس بس یہاں تک کا ہی ٹھیک ہے ۔ کیا مجھے اس پہن کر دیکھنے کی اجازت ہے ۔میرے دوست کہنے لگے ہاں ہاں ضرور ۔ یہ ساتھ ہمارا ٹرائے روم ہے آپ ٹرائے کریں ۔وہ لڑکی اندر گئی اس کے ساتھ ایک سہما ہوا اور ڈرا ہوا نوجوان بھی تھا ۔وہ عروسی جوڑا پہن کر باہر نکلی تو دوکاندار نے کہا ! " سبحان الله بیبی یہ تو آپ پر بہت سجتا ہے ایسی دلہن تو ہمارے پورے لاہور میں کبھی ہوئی نہ ہوگی "۔ (جس طرح سے دوکاندار کہتے ہیں )کہنے لگی جی بڑی مہربانی ٹھیک ہے ۔ اسے دوبارہ سے پیک کر لیں ۔ وہ مزید کہنے لگی کہ میں تو صرف ٹرائے کے لئے آئی تھی میں اپنے اس خاوند کو جو میرے ساتھ آیا ہے یہ بتانے کے لئے لائی تھی کہ اگر ہم امیر ہوتے اور ہمارے پاس …

" شوکتِ نفس "

آپ نے غور سے میری طرف دیکھا اور انگلی اٹھا کر کہا ، نوٹ ! " مباحثہ ہمیشہ کم علمی کی وجہ سے ہوتا ہے اور شوکت نفس کے لئے کیا جاتا ہے " ۔
 اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 379

" دوزخ کی آگ "

بغداد میں ایک نوجوان تھا ۔وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا ۔ وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے شکل دیتا تھا ۔ لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ " اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟  اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی اور اس کے والدین عم…

" چبہ آدمی "

ممکن ہے آپ کی آنکھ میں ٹیڑھ ہو اور اس بندے میں ٹیڑھ نہ ہو ۔ ایک واقعہ اس حوالے سے مجھے نہیں بھولتا جب ہم سمن آباد میں رہتے تھے ۔یہ لاہور میں ایک جگہ ہے ۔وہ ان دنوں نیا نیا آباد ہو رہا تھا اچھا پوش علاقہ تھا ۔وہاں ایک  بیبی بہت خوبصورت ، ماڈرن قسم کی بیوہ عورت ، نو عمر وہاں آ کر رہنے لگی ۔ اس کے دو بچے بھی تھے ۔ہم جو سمن آباد کے "نیک " آدمی تھے ۔ہم نے دیکھا کہ ایک عجیب و غریب کردار آکر ہمارے درمیان آباد ہو گیا ہے ۔ اور اس کا انداز زیست ہم سے ملتا جلتا نہیں ہے ۔ایک تو وہ انتہائی اعلا درجے کے خوبصورت کپڑے پہنتی تھی ، پھر اس کی یہ خرابی تھی کہ وہ بڑی خوبصورت تھی۔تیسری اس میں خرابی یہ تھی کہ اس کے گھر کے آگے سے گزرو تو خوشبو کی لپٹیں آتیں تھیں ۔اس کے جو دو بچے تھے وہ گھر سے باہر بھاگتے پھرتے تھے ، اور کھانا گھر پر نہیں کھاتے تھے ۔لوگوں کے گھروں میں چلے جاتے اور جن گھروں میں جاتے وہیں سے کھا پی لیتے ۔یعنی گھر کی زندگی سے ان بچوں کی زندگی کچھ کٹ آف تھی ۔ اس خاتون کو کچھ عجیب و غریب قسم کے مرد بھی ملنے آتے تھے ۔ گھر کی گاڑی کا نمبر تو روز دیکھ دیکھ کر آپ جان جاتے ہیں۔ لیکن اس کے گھ…

" علم ، محبت "

بیٹا وہاں جا کر لوگوں کو اپنا علم عطا کرنے نے بیٹھ جانا ، ان کو محبّت دینا ۔ میں نے کہا سر ، محبّت تو ہمارے پاس گھر میں دینے جوگی بھی نہیں ، وہ کہاں سے دوں ۔میرے پاس تو علم ہی علم ہے ۔کہنے لگے نہ انھیں علم نہ دینا ۔ انھوں نے محبت سے بلایا ہے ، محبّت سے جانا اگر ہے تو لے کر جانا ۔لیکن ہم تو ظاہر علم سکھاتے ہیں کہ اتنا اونچا روشندان رکھو ، مویشی کو اندر مت باندھو ، ناک سے سانس لو منہ سے نکالو  وغیرہ وغیرہ ۔اور یہ محبّت ! میں نے کہا ، جی یہ بڑا مشکل کام ہے ۔ میں یہ کیسے کر سکونگا ۔ میں گیا کوششیں بھی کیں لیکن بلکل ناکام لوٹا ۔کیونکہ علم عطا کرنا ، اور نصیحتیں کرنا بہت آسان ہے ۔اور محبّت دینا بڑا مشکل کام ہے ۔
 اشفاق احمد زاویہ ١    بابا کی تعریف صفحہ ٥٨

" اورنگزیب عالمگیر "

اورنگزیب عالمگیر کے دربار میں ایک بہروپیا آیا اور اس نے کہا : " باوجود اس کے کہ آپ رنگ و رامش ، گانے بجانے کو  برا سمجھتے ہیں ۔ شہنشاہ معظم ! لیکن میں فنکار ہوں اور ایک فنکار کی حیثیت سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور میں بہروپیا ہوں ۔ میرا نام کندن بہروپیا ہے ۔اور میں ایسا بہروپ بدل سکتا ہوں آپ کو جو اپنے علم پر بڑا ناز ہے کو دھوکہ دے سکتا ہوں اور میں غچہ دے کر بڑی کامیابی کے ساتھ نکل جاتا ہوں ۔اورنگزیب عالمگیر نے کہا : تمھاری بات وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے ۔ میں تو شکار کو بھی بیکار کام سمجھتا ہوں یہ جو تم میرے سامنے دعوہ کر رہے ہو اس کو میں کوئی اہمیت نہیں دیتا - " اس نے کہا : " ہاتھ کنگن کو آرسی کیا - آپ اتنے بڑے شہنشاہ ہیں اور دانش میں اپنا جواب نہیں رکھتے ۔  میں بھیس بدلونگا آپ پہچان کر دکھائیے - " تو انھوں نے کہا ! " منظور ہے " اس نے کہا حضور آپ وقت کے شہنشاہ ہیں ۔ اگر تو آپ نے مجھے پہچان لیا تو میں آپ کے دینے دار ہوں ۔لیکن اگر آپ مجھے پہچان نہ سکے اور میں نے ایسا بھیس بدلا تو آپ سے پانچ سو روپیہ لونگا ۔شہنشاہ نے کہا شرط منظور ہے ۔ اسے پتا چلا کے…

" مانگے کی روشنی "

مرد کا کام عورت کو سمجھنا نہیں ،اس کو محسوس کرنا ، اس کی حفاظت کرنا ، اس سے محبّت کرنا ہے ۔عورت کو اگر اس بات کا علم ہو جائے کہ مرد اس کو سمجھنے لگا ہے ، یا اس کے جذبات کو جانچنے کا راز پا گیا ہے تو وہ فوراً تڑپ کر جان دے دی گی ۔ آپ عورت کیساتھ کتنی بھی عقل و دانش کی بات کریں ، کیسے بھی دلائل کیوں نہ دیں ، اگر اس کی مرضی نہیں ہے تو وہ اس منطق کو کبھی نہیں سمجھے گی ۔ اس کے ذھن کے اندر اپنی منطق کا ایک ڈرائنگ روم ہوتا ہے ، جسے اس نے اپنی مرضی سے سجایا ہوتا ہے ۔ اور وہ اسے روشن کرنے کے لیے باہر کی روشنی کی محتاج نہیں ہوتی ۔ اس لیے وہ کسی عقل ودانش اور دلائل کے معاملے میں مانگے کی روشنی پر ایمان نہیں رکھتی ۔ اس نے جو فیصلہ کر لیا ہوتا ہے وہی اس مسئلے کا واحد اور آخری حل ہوتا ہے ۔
اشفاق احمد سفر در سفر صفحہ ١٤٥

" استاد اور گرو "

ٹیچر اور گرو میں بڑا فرق ہے ۔ استاد اور مرشد میں بڑا فاصلہ ہے ۔ استاد لکھاتا ہے پڑھاتا ہے ، بتاتا ہے ۔ اس کے پاس سکھانے اور پڑھانے کو بہت کچھ ہوتا ہے ۔ لیکن مرشد کے پاس سکھانے والی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں ۔ اوبابا ! روحانیت سکھائی یا پڑھائی نہیں جا سکتی  اختیار کی جاتی ہے ۔ اسی طرح طالب علم باطن کا سفر اختیار نہیں کرنا چاہتا اس کا علم حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ موچی بننا نہیں چاہتا شو میکنگ کا علم حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ صرف علم ۔ ۔ ۔۔وہی تو بتلا رہا ہوں سوہنیا ! کہ طالبِ علم تبدیلی کا خواہشمند نہیں ہوتا صرف علم کا خواہشمند ہوتا ہے ۔ اور چیلا پوچھتا ہے کہ میں بدل کیسے سکتا ہوں ، نیستی کیسے بن سکتا ہوں جوہر میں کیوں کر اتر سکتا ہوں ۔ اوئے تیرا بھلا ہو جائے اوئے زندگی کوئی مسئلہ تو نہیں کہ سلیٹی پنسل لے کر اس کا حل ڈھونڈھنے لگ جائیں زندگی تو زندگی ہے یہ بسر کی جاتی ہے ۔ 
اشفاق احمد  من چلے کا سودا صفحہ 150