" استاد اور گرو "

ٹیچر اور گرو میں بڑا فرق ہے ۔ استاد اور مرشد میں بڑا فاصلہ ہے ۔ استاد لکھاتا ہے پڑھاتا ہے ، بتاتا ہے ۔ اس کے پاس سکھانے اور پڑھانے کو بہت کچھ ہوتا ہے ۔ لیکن مرشد کے پاس سکھانے والی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں ۔ اوبابا ! روحانیت سکھائی یا پڑھائی نہیں جا سکتی  اختیار کی جاتی ہے ۔ اسی طرح طالب علم باطن کا سفر اختیار نہیں کرنا چاہتا اس کا علم حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ موچی بننا نہیں چاہتا شو میکنگ کا علم حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ صرف علم ۔ ۔ ۔۔وہی تو بتلا رہا ہوں سوہنیا ! کہ طالبِ علم تبدیلی کا خواہشمند نہیں ہوتا صرف علم کا خواہشمند ہوتا ہے ۔ اور چیلا پوچھتا ہے کہ میں بدل کیسے سکتا ہوں ، نیستی کیسے بن سکتا ہوں جوہر میں کیوں کر اتر سکتا ہوں ۔ اوئے تیرا بھلا ہو جائے اوئے زندگی کوئی مسئلہ تو نہیں کہ سلیٹی پنسل لے کر اس کا حل ڈھونڈھنے لگ جائیں زندگی تو زندگی ہے یہ بسر کی جاتی ہے ۔ 

اشفاق احمد  من چلے کا سودا صفحہ 150