نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

" استاد اور گرو "

ٹیچر اور گرو میں بڑا فرق ہے ۔ استاد اور مرشد میں بڑا فاصلہ ہے ۔ استاد لکھاتا ہے پڑھاتا ہے ، بتاتا ہے ۔ اس کے پاس سکھانے اور پڑھانے کو بہت کچھ ہوتا ہے ۔ لیکن مرشد کے پاس سکھانے والی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں ۔ اوبابا ! روحانیت سکھائی یا پڑھائی نہیں جا سکتی  اختیار کی جاتی ہے ۔ اسی طرح طالب علم باطن کا سفر اختیار نہیں کرنا چاہتا اس کا علم حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ موچی بننا نہیں چاہتا شو میکنگ کا علم حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ صرف علم ۔ ۔ ۔۔وہی تو بتلا رہا ہوں سوہنیا ! کہ طالبِ علم تبدیلی کا خواہشمند نہیں ہوتا صرف علم کا خواہشمند ہوتا ہے ۔ اور چیلا پوچھتا ہے کہ میں بدل کیسے سکتا ہوں ، نیستی کیسے بن سکتا ہوں جوہر میں کیوں کر اتر سکتا ہوں ۔ اوئے تیرا بھلا ہو جائے اوئے زندگی کوئی مسئلہ تو نہیں کہ سلیٹی پنسل لے کر اس کا حل ڈھونڈھنے لگ جائیں زندگی تو زندگی ہے یہ بسر کی جاتی ہے ۔ 

اشفاق احمد  من چلے کا سودا صفحہ 150


اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…