نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

" ناقابلِ یقین "

ایک بڑی خوبصورت دھان پان کی پتلی سی لڑکی ایک ٹوٹے سے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر انار کلی بازار آئی۔ وہاں میں اپنے دوست ریاض صاحب کی دکان پر بیٹھا ہوا تھا ۔اس لڑکی نے آ کر کہا کہ کیا آپ کے پاس کوئی اعلیٰ درجے کا عروسی جوڑا ہوگا۔تو میرے دوست نے کہا کہ جی بلکل ہے ۔ یہ دس ہزار کا ہے ۔ یہ پندرہ ہزار کا ۔ یہ بیس ہزار کا ہے ۔ پسند کر لیجئے۔ بہت اچھے ہیں ۔یہ پچیس ہزار کا بھی ہے ۔وہ کہنے لگی بس بس یہاں تک کا ہی ٹھیک ہے ۔ کیا مجھے اس پہن کر دیکھنے کی اجازت ہے ۔میرے دوست کہنے لگے ہاں ہاں ضرور ۔ یہ ساتھ ہمارا ٹرائے روم ہے آپ ٹرائے کریں ۔وہ لڑکی اندر گئی اس کے ساتھ ایک سہما ہوا اور ڈرا ہوا نوجوان بھی تھا ۔وہ عروسی جوڑا پہن کر باہر نکلی تو دوکاندار نے کہا ! " سبحان الله بیبی یہ تو آپ پر بہت سجتا ہے ایسی دلہن تو ہمارے پورے لاہور میں کبھی ہوئی نہ ہوگی "۔ (جس طرح سے دوکاندار کہتے ہیں )کہنے لگی جی بڑی مہربانی ٹھیک ہے ۔ اسے دوبارہ سے پیک کر لیں ۔ وہ مزید کہنے لگی کہ میں تو صرف ٹرائے کے لئے آئی تھی میں اپنے اس خاوند کو جو میرے ساتھ آیا ہے یہ بتانے کے لئے لائی تھی کہ اگر ہم امیر ہوتے اور ہمارے پاس عروسی جوڑا ہوتا اور اگر میں پہن سکتی تو ایسی دکھائی دیتی۔ آج ہماری شادی کوسات دن گزر چکے ہیں ۔ ہم الله کے فضل سے بہت خوش ہیں ۔لیکن میں اپنے خاوند کو جو بڑا ہی ڈپریسڈ رہتا ہے اسے خوش کرنے آئی تھی۔ 
میرے دوست نے کہا کیا آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں ؟ 
اس نے کہا نہیں ہمارے پاس پیسے تو تھے لیکن میری ایک چھوٹی بہن جو ایم بی بی ایس کر رہی ہے اس کو پیسوں کی ضرورت تھی اور میرے والدین نے کہا کہ اگر میں یہ قربانی دوں تو اس کی ضرورت پوری ہو جائے ۔ تب میں نے کہا کہ بسم اللہ یہ زیادہ ضروری ہے ۔ چنانچہ میں نے سادہ کپڑوں میں ہی شادی کر لی۔

جب یہ بات میں اپنے دوستوں کے پاس لے گیا تو انھوں نے کہا کہ 
it is too good to be true - 

 اشفاق احمد زاویہ ٢   محاورے صفحہ ١٦٧






اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15