نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

" بڑھاپا اور جوانی "

مجھے ایک بار ٹرین سے لاھور جانے کا اتفاق ہوا میں جس ڈبے میں سفر کر رہا تھا اس میں ایک بوڑھا بھی بیٹھا تھا۔ اس کی عمر مجھ سے کافی زیادہ تھی اس کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس تھا۔ اس کے جسم سے عجیب سی سمیل   آ رہی تھی ایسے لگتا تھا کہ وہ دن بھر جسمانی مشقت کرتا رہا ہے اور بار بار کپڑے پسینے میں شرابور ہونے کی وجہ سے اس سے ایسی ھمک آ رہی ہے۔میں حسب عادت اس سے باتیں کرنے لگا گو طبیعت نہیں چاہ رہی تھا تجسس کی حس بیدار ہوئی او اس سے باتیں کرنے لگا۔میں نے پوچھا بابا کہاں جانا ہے؟وہ مسکرایا اور بولا گھر۔اب میں تلملایا بھی لیکن مجھے لگا کہ وہ کوئی عام شخص نہیں کوئی بابا ہے جو اس نے مجھے اتنا مختصر اور جامع جواب دیا ہے۔میں اس کے قریب ہو گیا اور پوچھا
"جوانی اچھی ہوتی ہے کہ بڑھاپا"
اس نے کہا جوانوں کے لیے بڑھاپا اور بوڑھوں کے لیے جوانی۔
میں نے کہا وہ کیسے ؟
بولا " بوڑھے اگر جوان ہو جائیں تو شاید وہ پہلے والی غلطیاں کبھی نہ دہرائیں اور اگر جوان بوڑھوںکو تجربے کے طور پر لیں تو ان کی جوانی بے داغ اور بے عیب گزرے۔
اس بوسیدہ کپڑوں والے بوڑھے نے اتنی وزنی بات کر دی کہ بڑے مفکر اور دانشور ایسی بات نہیں کر سکتے۔

 اشفاق احمد زاویہ 3 صفحہ نمبر 46


اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…