" مانگے کی روشنی "


مرد کا کام عورت کو سمجھنا نہیں ،اس کو محسوس کرنا ، اس کی حفاظت کرنا ، اس سے محبّت کرنا ہے ۔عورت کو اگر اس بات کا علم ہو جائے کہ مرد اس کو سمجھنے لگا ہے ، یا اس کے جذبات کو جانچنے کا راز پا گیا ہے تو وہ فوراً تڑپ کر جان دے دی گی ۔ آپ عورت کیساتھ کتنی بھی عقل و دانش کی بات کریں ، کیسے بھی دلائل کیوں نہ دیں ، اگر اس کی مرضی نہیں ہے تو وہ اس منطق کو کبھی نہیں سمجھے گی ۔ اس کے ذھن کے اندر اپنی منطق کا ایک ڈرائنگ روم ہوتا ہے ، جسے اس نے اپنی مرضی سے سجایا ہوتا ہے ۔ اور وہ اسے روشن کرنے کے لیے باہر کی روشنی کی محتاج نہیں ہوتی ۔ اس لیے وہ کسی عقل ودانش اور دلائل کے معاملے میں مانگے کی روشنی پر ایمان نہیں رکھتی ۔ اس نے جو فیصلہ کر لیا ہوتا ہے وہی اس مسئلے کا واحد اور آخری حل ہوتا ہے ۔

اشفاق احمد سفر در سفر صفحہ ١٤٥