" ورع "

حضرت شیخ اکبر کا ارشاد ہے کہ اعمال اور نوافل تو لوگ کثرت سے اختیار کر لیتے ہیں ، کیونکہ یہ ایک وجودی شے ہے ۔دوسرے لوگ بھی اس کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔ اس لئے نفس کو اس میں بڑا مزہ ملتا ہے ۔اس میں طلب جاہ کے مواقع بھی ملتے ہیں ۔لیکن ایسے عمل جن میں گناہوں سے رک جانا ہوتا ہے وہ نفس پر بڑے گراں گزرتے ہیں ۔مثلاً جھوٹ ترک کرنا یا غیبت سے باز رہنا ۔چونکہ ایسے گناہوں کو ترک کرنے میں شہرت اور ناموری نہیں ہوتی اس لئے ان کی طرف کوئی التفات نہیں کرتا ۔احادیث میں اس کا اہتمام زیادہ آیا ہے اور اسے ورع کہتے ہیں ۔


اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ ٦٠٨