" قطب نما "

خان صاحب  کے بر عکس مجھے دوسروں کی دنیا  سدھارنے کا اتنا شوق ہے ،  دوسروں کو ٹھیک کرنے کا ایسا چسکا ہے کہ اپنے آپ کو ٹھیک کے بغیر میں مجبور لوگوں کو مشورے  دیے چلی جاتی ہوں ۔میری نیت ہوتی ہے کہ لوگ مجھے سراہیں ، میری تعریف کریں اور میری دانش کے قائل ہوں ۔مجھے خان صاحب کے ساتھ ایک گلا ہے جو اب وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے جہاں انھوں نے پڑھنے لکھنے میں میری مدد کی ۔میری تربیت میں اتنی تگ و دو کی وہاں مجھ سے ایک راز چھپا گئے کہ نیت کے قطب نما کو کیسے سیدھا رکھا جاتا ہے ۔اتنی بات مجھ پر عیاں ہو گئی ہے کہ نیت کی صفائی ہی سے ان میں محبّت کا چشمہ اندر ہی اندر بہنے لگا تھا ۔وہ نہ تو اس محبّت کا اعلان کرتے اور نہ ہی پرچار کرتے ۔ان کا رابطہ اپنے چاہنے والوں کے ساتھ بڑی خاموشی سے پروان چڑھاتا اور قائم رہتا ۔ان کے چلے جانے کے بعد مجھ پر یہ بھید کھلا کہ ان کے قارئین ، ناظرین ، مداحین کی چاہت بھی  کسی طور ان سے وقت کے ساتھ کم نہیں ہوئی ۔

 بانو قدسیہ  راہ رواں صفحہ ١١١