" علم ، محبت "


بیٹا وہاں جا کر لوگوں کو اپنا علم عطا کرنے نے بیٹھ جانا ، ان کو محبّت دینا ۔ میں نے کہا سر ، محبّت تو ہمارے پاس گھر میں دینے جوگی بھی نہیں ، وہ کہاں سے دوں ۔میرے پاس تو علم ہی علم ہے ۔کہنے لگے نہ انھیں علم نہ دینا ۔ انھوں نے محبت سے بلایا ہے ، محبّت سے جانا اگر ہے تو لے کر جانا ۔لیکن ہم تو ظاہر علم سکھاتے ہیں کہ اتنا اونچا روشندان رکھو ، مویشی کو اندر مت باندھو ، ناک سے سانس لو منہ سے نکالو  وغیرہ وغیرہ ۔اور یہ محبّت ! میں نے کہا ، جی یہ بڑا مشکل کام ہے ۔ میں یہ کیسے کر سکونگا ۔ میں گیا کوششیں بھی کیں لیکن بلکل ناکام لوٹا ۔کیونکہ علم عطا کرنا ، اور نصیحتیں کرنا بہت آسان ہے ۔اور محبّت دینا بڑا مشکل کام ہے ۔

 اشفاق احمد زاویہ ١    بابا کی تعریف صفحہ ٥٨