" غیبی طاقت "

میں سوچ بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہوں چونکہ ہمارے اندر گندا اور صاف خون اکٹھا رواں دواں ہے اور دل کی ساخت کچھ ایسی ہے کہ یہ دونوں لہو قلب میں مل نہیں پاتے ۔سنا ہے ایسے ہی جنت میں دو دریا جاری ہیں ، جو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ بہتے ہیں ۔پر ان میں ایک قدرتی آڑ ہے ۔گویا اس دوئی یا تضاد نے انسان کی ساری زندگی کو الجھاؤ کے حوالے کر دیا ہے ۔وہ مکمل طور پر فرشتہ بن جائے یہ ممکن نہیں ............مجسم ابلیس بن کر اترائے ، اور تکبر کی صورت زندگی بسر کرے یہ بھی یقینی نہیں  ۔الله نے اسے آزاد چھوڑ رکھا ہے ۔اگر ہدایت کا خواستگار ہوا تو بدی کا سفر نیکی میں منتقل ہو جائیگا .........اور بدی کے سفر سے چھٹکارا حاصل نہ کرنا چاہے تو بھی فیصلہ صرف اس کا اپنا ہے ۔غیبی طاقت اسے تبدیلی پر آمادہ تو کر سکتی ہے لیکن تھانیداری نہیں کر سکتی ۔

 بانو قدسیہ راہ رواں صفحہ ١٨٦