نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

October, 2013 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

"گفتار "

گفتار کی بڑی اہمیت ہے ، بلکہ گفتار ہی اہم ہے۔ الفاظ کے اندر ہی خیر و شر کی قوّتیں پنہاں ہوتی ہیں ۔ الفاظ کو آپ لائف سیونگ گولیوں کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں اور الفاظ ہی کو آپ کلاشنکوف کی گولیوں کے طور پر استعمال میں لا سکتے ہیں ۔ گفتار میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 500

" ہینڈ پمپ "

خواتین و حضرات ! دعا کا طریقہ بھی ایسے ہی ہے جیسے نلکا " گیڑ " کر پانی نکالنے کا ہے ۔ جو ہینڈ پمپ یا نلکا چلتا رہے اور بار بار " گڑتا " رہے اس میں سے تو بڑی جلدی پانی نکل آتا ہے ، لیکن جو ہینڈ پمپ سوکھا ہوا ہو اور اس پر " گیڑے " جانے والی کیفیت کبھی نہ گزری ہو تو آپ چاہے اس پر کتنا بھی زور لگا لیں پانی نہیں نکلتا ۔ اس لیے دعا کے سلسلے میں آپ کو ہر وقت اس کی حد کے اندر داخل رہنے کی ضرورت ہے ۔ آپ ہر وقت دعا ماگتے چلے جائیں مگر مانگیں توجہ کے ساتھ ۔
اشفاق احمد زاویہ 3 سب دا بھلا سب کی خیر صفحہ 8

" رفعت "

جو شخص اپنے اندر ہی اندر گہراچلا جاتا ہے ،وہی اوپر کو اٹھتا ہے اور وہی رفعت حاصل کرتا ہے ۔یہی قدرت کا اصول ہے۔ جو درخت جس قدر گہرا زمین کے اندر جائیگااسی قدر اوپر کو جا سکے گا ، اوراسی قدر تناور ہوگا  ۔
ہم اپنی ساری زندگی اوپر ہی اوپر ، اپنے خول کو ، اور اپنے باہر کو جاننے پر لگا دیتے ہیں ۔
اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اصل انسان ہمارے اندر رہتا ہے ۔
جب مین اپنے اندر نگاہ مارتا ہوں تو اس کے اندر کچھ الفاظ ،  کچھ تصورات ،  کچھ خیال ، کچھ یادیں ، کچھ شکلیں اور کچھ خواب پاتا ہوں ۔


از اشفاق احمد   زاویہ 3 باب علم فہم اور ہوش صفحہ 295

" تنہائی "

کہا جاتا ہے کہ انسان اس دنیا میں تنہا آتا ہے اور تنہا ہی جاتا ہے ۔ کتنی بھی مجلسی زندگی گزار لے در اصل وہ تنہا ہی ہوتا ہے ۔ میں اس نتیجے پر پہنچا ہون کہ در اصل تنہائی کے لمحات ہی حق اور سچ ہوتے ہیں ۔ انسان اس وقت " ریئل " ہوتا ہے جب وہ اکیلا ہو ۔ لفظ اللہ بھی میری سمجھ میں اس وقت انے لگتا ہے جب میں تنہا ہوں ۔ کافی ہاؤس کے بحث میں اس لفظ کا کوئی مطلب نہیں ہوتا ۔ میرا مشاہدہ ہے کہ مذہب ذہین لوگوں کی زندگی کا مضمون نہیں ہے ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 446

" سب دا بھلا "

بابے کہتے ہیں کہ " جو شخص کسی کو دھوکہ دے رہا ہوتا ہے حقیقت میں خود کو دھوکہ دے رہا ہوتا ہے ۔ لیکن وہ خیال کرتا ہے کہ کسی اور کو دھوکہ دے رہا ہے اور جو کسی کی خیر اور بھلائی چاہ رہا ہوتا ہے وہ حقیقت میں اپنی بھلائی چاہ رہا ہوتا ہے" ۔
اشفاق احمد زاویہ 3 سب دا بھلا سب دی خیر صفحہ 9

" خالی زندگیاں "

بہت سے لوگوں کے پاس دین کا اور نفسیات کا بڑا علم ہوتا ہے ۔ لیکن ان کی زندگیاں بڑی خالی ہوتی ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صرف باہرکا علم انسان کے اندر کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ہر شخص جانتا ہے کہ ظلم سے ظلم پیدا ہوتاہے پھر بھی ہر شخص دوسرے پر ظلم کرتا ہے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 532

" جذبہ "

محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو کسی عمل سے وابستہ نہیں ہوتا ۔اچھائی برائی ، کمی بیشی ، اونچ نیچ محبّت کے سامنے یہ سب بیکار کی باتیں ہیں ۔محبّت کرنے والا محبوب کی خوبیاں خرابیاں نہیں دیکھ پاتا ، بلکہ محبوب کی خرابیوں کو اپنی کج ادائیوں کی طرح قبول کر لیتا ہے ۔ڈیروں پر اسی محبّت کا مظہر نظر آتا ہے اور غالباً اسی محبّت کی تلاش خلق کو بابوں کے پاس لے جاتی رہی ۔مشکل یہ ہے کہ کچھ لوگ محبّت کے اہل نہیں ہوتے ۔انھیں اپنی ذہانت پر اس قدر مان ہوتا ہے کہ وہ دوسروں میں کیڑے نکال کر ، کسی اور کا قد چھوٹا کر کے ، کسی دوسری کی خوبیوں میں خرابی کا پہلو نکل کر اپنی عظمت کی کلا جگاتے ہیں ۔میں یہ نہیں کہ رہی کہ خان صاحب فرشتہ تھے ۔ان میں انسان ہونے کے ناطے خوبی اور خرابی کے دریا ساتھ ساتھ بہتے ہونگے ۔ان میں بھی حب جاہ کی طلب ہوگی ۔لیکن ان کے چاہنے والوں کی توجہ کبھی ادھر نہیں گئی ۔وہ کبھی ان کی بشریت کی طرف دھیان نہ دے پائے ۔اور انھیں ایک بہت بڑا آدمی ، برگزیدہ صوفی ، اور انمول ادیب سمجھتے رہے ۔لیکن سوسائٹی میں کچھ نکتہ چیں قسم کے لوگ رہتے ہیں جو محبتی طریقہ نہیں اپنا سکتے ۔اور پکڑ پکڑ کر سینت سینت کے خان صاحب…

"خامیاں"

انسان میں اپنی کمزوریاں اور اپنے اندر جو خامیاں ہوتی ہیں، ان کو تسلیم نہیں کرتا۔
زاویہ کے باب بہروپ سے اقتباس

ضمیر کا سگنل

خواتین و حضرات ! آپ کبھی شام کو جب اکیلے لیٹے ہوئے ہوں ، تو ایک پہلو لیٹ کر ایک کان تکیے سے لگا کر اور دوسرے کان پر بازو رکھ کی دیکھئے گا آپ کو اپنے دل کے دھڑکنے کی آواز واضح آئے گی۔ آپ دیر تلک اس کا مشاہدہ ضرور کیجئے گا ۔ اس آواز میں کئی باتیں پوشیدہ ہیں کئی سبق اور اسرار موجود ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے - قدرت نے انسان کو ایک ایسی بڑی نعمت سے نوازا ہے ۔ جسے ہم ضمیر کہتے ہیں ۔ جب بھی ہم سے کوئی اچھائی یا برائی سرزد ہو تو یہ اپنے خصوصی سگنل جاری کرتا ہے ان سگنلز میں کبھی شرمندگی کا احساس نمایاں ہوتا ہے تو کبھی ضمیر سے آپ کو "ویری گڈ " کی آواز آتی ہے۔ آپ کسی یتیم کے سر پر دست شفقت رکھتے ہیں یا کسی نابینا کو اپنا ضروری کام چھوڑ کر سڑک پار کر واتے ہیں تو آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے ضمیر نے آپ کو شاباش دی ہے۔ پیار سے تھپکی دی ہے ۔انسان خود میں عجیب طرح کی تازگی اور انرجی محسوس کرتا ہے ۔ جب ہم اپنے کسی نوکر کو جھڑکیاں دیتے ہیں ، کسی فقیر کو کوستے ہیں یا کوئی بھی ایسا عمل کرتے ہیں جس کی ہمیں ممانعت کی گئی ہے ، تو یہ ضمیر تنگی محسوس کرتا ہے ایک ایسا سگنل بھیجتا ہے جس سے ہمیں بخ…

" پوٹلیاں "

میں جیسے پہلے بھی ذکر کیا کرتا ہوں، میں نے اپنے بابا جی سے پوچھا کہ جی یہ کیوں بے چینی ہے، کیوں اتنی پریشانی ہے، کیوں ہم سکون قلب کے ساتھ اور اطمینان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے تو انھوں نے کہا کہ دیکھو تم اپنی پریشانی کی پوٹلیاں اپنے سامنے نہ رکھا کرو۔ انھیں خدا کے پاس لے جایا کرو، وہ انکو حل کر دے گا۔ تم انھیں زور لگا کر، خود حل کرنے کی کوشش کرتے ہو، لیکن تم انھیں حل نہیں کر سکو گے۔
زاویہ سے اقتباس

" گناہ "

گناہ کیا ہے ؟
گناہ اپنی پاکیزگی کے انکار کا نام ہے ۔ اپنی پاکیزگی کے احساس سے بڑی اور کوئی نیکی نہیں ۔

از اشفاق احمد زاویہ ٣ ٢٩٣

" بڑا آدمی "

بڑے آدمی اور چھوٹے آدمی میں بنیادی طور پر یہی فرق ہے ۔ بڑا انسان وہی ہوتا ہے جو دوسروں کے سارے تضاد ، ان کی طبیعتوں کا فرق ، حالات ، خیالات ، سارے رنگوں کو خوشدلی سے قبول کرے ۔ مسلک مختلف ہو تو اپنا مسلک چھوڑے بنا دوسرے کے اعتقادات کی تعطیم کرتا رہے ۔ کلچر مختلف ہو تو اعتراضات کیے بغیر دوسرے کے کلچر کو بھی اچھا سمجھتا رہے ۔ رنگ نسل ، طبقاتی اونچ نیچ ، لباس ، زبان غرض یہ کہ زیادہ سے زیادہ تضاد اور فرق کو زندگی کا حصہ اور انسان کو انسان سے ممیز  کرنے کی سہولت سمجھ لے ۔ ان امتیازات کی وجہ سے نفرت کا شکار نہ ہو ۔

بانو قدسیہ مردِابریشم صفحہ 115