ستم کا پھول

 محبت کی امر بیل میں ہمیشہ ستم کے پھول کھلتے ہیں ۔ ستم کا پھول ، جس کی پنکھڑیوں پر تاسف کے آنسو منجمد ہوتے ہیں ۔ اور جس کی مخملیں جلد سے جدائی کی خوشبو آتی ہے ۔ ستم کے پھول کی کہانی  سنی ہے کبھی تم 
نے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟  یہ تو دکھ کے پھول کی داستان ہے ۔ ایک ایسا پھول جس میں محبت کا مدفن ہوتا ہے ۔ 
وینس کی قبر پر اپالو کے اتنے آنسو گرے کہ ایک دن اس میں سے ایک پودے نے سر نکالا اور اس میں ایک پھول کھلا ارغوانی رنگ کا ، یہ ستم کا پھول تھا ۔ ستم کا پھول ، پچھتاوے کا پھول ، محبت کا مدفن ۔ اس کی ہر ایک پنکھڑی پر لکھا ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ " افسوس صد افسوس " ۔ 

بانو قدسیہ امر بیل سے اقتباس