" پتنگ "


مجھے یاد ہے وہاں ایک اشرف لغاری آیا کرتا تھا - اسے پتنگ اڑانے کا بڑا شوق تھا اور بڑا ہی پتنگ باز سجنا تھا وہ خوبصورت سی ریشمی چادر باندھتا تھا اور کندھے پر پرنا رکھتا تھااور جوں جوں بسنت قریب آتی جاتی تھی اس کا شوق اور مانگ بڑھتی جاتی تھی۔
میں نے اس سے کہا اشرف تم پتنگ سے اتنی محبت کیوں کرتے ہو"
وہ کہنے لگا " صاحب آپ اگر کبھی پتنگ اڑا کر دیکھیں اور اپ کو بھی اس کی ڈور کا جھٹکا پڑے تو آپ کبھی اسے
چھوڑ نہ سکیں 
میں نے کہا  تم ڈیرے پر آتے ہو- بابا جی کی باتیں سنتے ہو اور ان کی خدمتیں بھی کرتے ہو 
وہ بولا  صاحب یہ سب کچھ میری گڈی (پتنگ) اڑانے کی وجہ سے ہوتا ہے 
میں نے کہا یار اس میں کیا راز ہے ، تو وہ کہنے لگا جب میرا پتنگ بہت اونچا چلا جاتا ہے اور "ٹکی" ہو جاتا ہے اور نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے اور میرے ہاتھ میں صرف اسکی ڈور ہوتی ہے تو اس نہ نظر آنے کی جو کھینچ ہوتی ہے ، اس نے مجھے اللہ کے قریب کر دیا ہے اور میرے دل پر اللہ کی کھینچ بھی ویسے ہی پڑتی ہے جیسے اس پتنگ کی میرے ہاتھوں پر پڑتی ہے "

از اشفاق احمد ، زاویہ 3 صفحہ نمبر 76