نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

" پتنگ "


مجھے یاد ہے وہاں ایک اشرف لغاری آیا کرتا تھا - اسے پتنگ اڑانے کا بڑا شوق تھا اور بڑا ہی پتنگ باز سجنا تھا وہ خوبصورت سی ریشمی چادر باندھتا تھا اور کندھے پر پرنا رکھتا تھااور جوں جوں بسنت قریب آتی جاتی تھی اس کا شوق اور مانگ بڑھتی جاتی تھی۔
میں نے اس سے کہا اشرف تم پتنگ سے اتنی محبت کیوں کرتے ہو"
وہ کہنے لگا " صاحب آپ اگر کبھی پتنگ اڑا کر دیکھیں اور اپ کو بھی اس کی ڈور کا جھٹکا پڑے تو آپ کبھی اسے
چھوڑ نہ سکیں 
میں نے کہا  تم ڈیرے پر آتے ہو- بابا جی کی باتیں سنتے ہو اور ان کی خدمتیں بھی کرتے ہو 
وہ بولا  صاحب یہ سب کچھ میری گڈی (پتنگ) اڑانے کی وجہ سے ہوتا ہے 
میں نے کہا یار اس میں کیا راز ہے ، تو وہ کہنے لگا جب میرا پتنگ بہت اونچا چلا جاتا ہے اور "ٹکی" ہو جاتا ہے اور نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے اور میرے ہاتھ میں صرف اسکی ڈور ہوتی ہے تو اس نہ نظر آنے کی جو کھینچ ہوتی ہے ، اس نے مجھے اللہ کے قریب کر دیا ہے اور میرے دل پر اللہ کی کھینچ بھی ویسے ہی پڑتی ہے جیسے اس پتنگ کی میرے ہاتھوں پر پڑتی ہے "

از اشفاق احمد ، زاویہ 3 صفحہ نمبر 76

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…