"کندھا "


ایسی بات ہر گز نہیں ہے کہ کوئی بھوکا مرتا، خود کشی کرتا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ کیسوں میں یہ عنصر ہو لیکن مجموعی طور پر اور غالب عنصر یہی ہوتا ہے کہ ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے کوئی موت کو گلے لگاتاہے۔
ہم اپنے اپنے کاموں اور غرض کے ساتھ وابستہ ہو گئے ہیں اور ہمارے پاس کسی دوسرےکے لیے وقت نہیں ہے اور لوگ ان کندھوں کو تلاش کرتے پھرتے ہیں جن پر وہ اپنا ماتھا رکھ کے رو سکیں ۔ یہ کوتاہی معاشرے کی ہے۔


اشفاق احمد  زاویہ 3 دو بول محبت کے صفحہ 52