نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

December, 2013 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

" کھیڑے "

جب آپ اللہ سے درخواست کرتے ہیں تو وہ خوش ہوتا ہے ۔ آپ کوئی درخواست لے کر اللہ کے " کھیڑے " پڑ جائیں ۔ اس کے پیچھے ہی پڑ جائیں ۔ جس طرح بچے اپنے والدین کے پیچھے پڑ جاتے ہیں ۔ بچوں کی طرح درخواست  کریں ، بلکیں اور اپنی بات  منوا کر ہی چھوڑیں ۔
اشفاق احمد زاویہ 3 مرکزِ دعا صفحہ 317

" شیوہ "

قربانی کمزور آدمیوں کا فعل نہیں ہوتا۔
یہ صرف بہادروں کا ہی شیوہ ہو سکتا ہے ۔

اشفاق احمد زاویہ 3 روح کی سرگوشی صفحہ 306

" ثالث "

بس بچہ ! اللہ دکھ بھری داستان کو بڑے دھیان سے سنتا  ہے ۔ کچھ غم مٹا بھی دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کچھ الجھنیں  سلجھا بھی دیتا ہے ۔۔ ۔ ۔  لیکن اگر سارے ہی  غم سلجھ جائیں تو آدمی اور اس میں بات چیت بند ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ بیماری نہ ہو تو کوئی ڈاکٹر کے پاس کیوں جائے ؟ جھگڑا نہ ہو تو وکیل کس کام کا ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ بس خود ہی مصیبت بھیجتا ہے اور خود ہی ثالث بن جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔اگر زندگی میں راحت ہی راحت ہو چین ہی چین ہو تو کون اس کا در کھٹکھٹائے کون اس سے باتیں کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بانو قدسیہ دست بستہ صفحہ 52

"رسمِ غلامی "

پرانے زمانے میں بچے آزاد کھیلتے تھے اور جب وہ جوان ہوتے تو سردار کی بتائی ہوئی رسم کے مطابق انہیں جنگجو گروہوں مین شامل کر لیا جاتا تھا ۔ اب جب بچہ جوان ہو جاتا ہے تو اس کو ڈگری دے کر اور ملازمت کی رسم ادا کر کے اداروں میں شامل کر لیا جاتا ہے ۔

پرانے زمانے میں جوان کو شکار مارنے ، شکار تلاش کرنے ، اور موقع آنے پر دوسرے قبیلے کے لوگوں کو ختم کرنے کے لیے رکھا جاتا ۔ آج کے زمانے میں اُسے روٹی کما کر لانے ، اس کا ذخیرہ جمع کرنے ، اور مدِ مقابل کو شکست دے کر اپنے لیے نئی راہیں پیدا کرنے پر متعین کیا جاتا ہے ۔

اشفاق احمد زاویہ 3 کارپوریٹ لائف  صفحہ 298



" ذہن، شعور "

جاننا چاہیے کہ ذہن وہ نوکر ہے ، جس نے اپنے مالک کے گھر پر اس کی غیر موجودگی میں قبضہ کر رکھا ہے ۔ کیا یہ نوکر چاہے گا کہ اس کا مالک واپس آجائے ! وہ اپنے مالک کی واپسی بالکل پسند نہیں کرے گا ۔ ایسے ایسے حیلے ، اور ایسی ایسی ترکیبیں سوچتا رہے گا کہ گھر کا مالک گھر واپس نہ آسکے۔ اس کے بہانوں اور ترکیبوں  میں سب سے بڑی ترکیب یہ  ہو گی کہ خود ہی کو گھر کا مالک سمجھنے لگ جائے ۔ اور خود ہی سب کو بتاتا پھرے کہ وہی بلا شرکت غیرے مالک ہے ۔  چنانچہ ذہن کبھی بھی شعور کو اندر داخل ہونے نہیں دے گا ۔ جو اصل مالک خانہ ہے ۔ لیکن اگر شعور کو گھر واپس لانا چاہتے ہیں اور حقدار کو اس کا حق واپس دلانا چاہتے ہیں ۔ تو پھر دماغ کو ریلیکس کرنے کا طریق اپنا لیں ، اس کو کارکردگی اور عمل سے نکالیں ۔ اسے خالی کر دیں ، اسے کھلا چھوڑ یں ۔ اسے نیوٹرل کلچ میں ڈال دیں ۔ اس کی موت واقع ہونے لگے گی ۔ اور جونہی اس کی موت واقع ہوگی گھر کا قبضہ اس کے مالک کو مل جائے گا۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3 علم فہم اور ہوش صفحہ 291

"نفس کے بندے "

ایک بادشاہ تھے ان کے ایک پیر تھے - اور ان کے بہت بہت پیروکار اور مرید تھے ۔
بادشاہ نے بہت خوش ہو کر اپنے مرشد سے کہا کہ آپ بہت خوش نصیب آدمی ہیں آپ کے معتقدین کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انھیں گنا بھی نہیں جا سکتا ۔
مرشد نے کہا ان میں سے صرف ڈیڑھ شخص ایسا ہے جو میری عقیدت والا ہے اور مجھ پر جاں نثاری کر سکتا ہے ، اور مجھ کو مانتا ہے اور باقی کے ایسے ہی ہیں ۔
بادشاہ بہت حیران ہوا کہ یہ پچاس ہزار میں سے صرف ڈیڑھ کیسے کہ رہا ہے ۔
مرشد نے کہا کہ ان کے نفس کا ٹیسٹ کرتے ہیں تب آپ کو پتا چلے گا ۔

تو انھوں نے کہا کہ اس میدان کے اوپر ایک ٹیلہ ہے اور اس ٹیلہ کے اوپر آپ مجھے ایک جھونپڑی بنوادیں فوراً رات کی رات میں بنوا دیں - بادشاہ نے جھونپڑی بنوا دی ۔

اس جھونپڑی میں اس بزرگ نے دو بکرے باندھ دیے - اور کسی کو پتا نہیں کہ اس میں دو بکرے باندھے گئے ہیں ۔

اور پھر وہ جھونپڑی سے باہر نکلا اور اونچی آواز میں کہا ۔

ہے کوئی میرے سارے مریدین میں سے جو مجھ پر جان چھڑکتا ہو ؟
میری بات دل کی گہرائیوں سے مانتا ہو ؟ بری اچھی میں ساتھ دینے والا ہو ۔
اور جو قربانی میں اس سے مانگوں وہ دے - اگر کوئی ایسا ہے تو میرے پاس آئے ۔

" جلیل القدر "

کوئی چیز آپ کو اتنی خوشی نہیں دے سکتی جتنی خوشی آپ کو کسی روتے ہوئے  کی مسکراہٹ دے سکتی ہے ۔  خواتین و حضرات ! آپ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وہ زمانہ یاد ہوگا جب وہ اپنی نیند کو چھوڑ کر ضرورت مندوں کی خبر گیری کو نکل پڑتے تھے ۔ اور آپ سوچ کر اندازہ لگائیں کہ جب خدا کا ایک جلیل القدر بندہ خلیفئہ  وقت اور ایک بہت بڑی فوج کا کمانڈر درد مندوں  کے دکھ بانٹنے  کے لیے مدینے کی گلیوں میں پھر رہا ہے اور سارے لوگ سو رہے ہیں ۔  اشفاق احمد زاویہ 3 رویوں کی تبدیلی صفحہ 25

" منگتا "

کوئی ایسا لمحہ بھی آتا ہے جب انسان بغیر کسی شدُ و مدّ اور بغیر کسی اہتمام کے اپنے معبود کے قریب تر آجاتا ہے ۔ سخی سائیں راضی فرماتے ہیں کہ جو مانگتا ہے وہ پا لیتا ہے جو جھولی پھیلاتا ہے اس کی جھولی بھر دی جاتی ہے ۔  لیکن اس شخص میں سپردگی کا حوصلہ ہونا چاہیے ۔
اشفاق احمد زاویہ 3 سائنس اور مذہب  صفحہ 237

حضرت امام غزالی ؒ

جب میں اسٹوڈیو آ رہا تھا تو اس وقت میرے سامنے والی گاڑی جو ذرا زیادہ رفتار سے جا رہی تھی ، اس نے ایک سائیکل والے کو ٹکر مار دی ۔ چیں چاں کر کے ٹریفک رکی اور لوگوں کا مجمع سا لگ گیا ۔ کوئی کہہ رہا تھا دوڑ کر پانی لاؤ ۔ کوئی رکشہ  والے کی بات کر رہا تھا  کہ اسے فوراً ہسپتال لے چلو لیکن وہ بوڑھا شخص جان ہار گیا تھا ۔  میں وہاں یہی سوچنے لگا تھا کہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ یہ گاڑی ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے سے ذرا پہلے گذر جاتی یا بعد میں آتی تو شاید وہ بوڑھا شخص جس کی سائیکل پر کوئی ترکارہی وغیرہ لدی ہوئی تھی جان سے نہ جاتا ۔ لیکں خواتین و حضرات  ! اس کا وقت طے تھا ۔ اس گاڑی نے اپنے مقررہ وقت پر وہاں آنا تھا اور اسے  " ہٹ " کرنا تھا ۔ ہماری روز مرہ کی زندگی میں کئی واقعات ایسے رونما ہوتے ہیں کہ ہم کہتے ہیں  کہ کاش ایسا نہ ہوتا ، کاش وہ اس طرح سے کر لیتا ۔ ہمارے گھروں میں عام طور پو عورتیں کہا کرتی ہیں کہ " میں نہ کہتی تھی رشتہ وہاں  نہ کرنا ایسا تو ہونا ہی تھا " ۔  لیکن شاید ان سب باتوں میں قدرت کا قسمت کا بھی کوئی عمل دخل ہوتا ہے ۔ پچھلے دنوں میں اسلام آباد جا رہا تھا می…

" خوف "

جو شے آپ کو خوفزدہ کر رہی ہے اگر آپ بہت دیر تک اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر  کھڑے ہو جائیں تو تھوڑی دیر بعد وہ خود خوفزدہ ہو کر بھاگ جائے گی ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 503

" داتا صاحب "

جیسے یہاں لاہور میں جب داتا صاحب غزنی سے آ کر راوی کنارے بیٹھے تھے اور وہ  وہاں کے گائیوں چرانے والوں     ہندوؤں سے انتہائی حسنِ سلوک سے پیش آئے ۔ انہیں داتا صاحب پانی کے گھڑے بھر بھر کر پلاتے تھے ، لیکن ان سے کوئی بات نہ کرتے ۔ وہ ہندو گائے بان حیران ہوتے اور کہتے  کہ بابا اتنے اچھے کیوں ہو ؟ تم نے یہ سب کچھ کہاں سے سیکھا ہے ؟ اور داتا صاحب  سے آ کر  کہتے تھے کہ " بابا ہمیں بھی اپنے جیسا بنا لو " ۔  اشفاق احمد زاویہ 3  لائٹ ہاؤس  صفحہ 73 

" روشن ضمیری "

ہم نے مادی قوت پر بڑا کنٹرول حاصل کر لیا ہے ۔ لیکن ہم انسانی دل کی گہرائیوں سے واقف نہیں ہیں۔ ہمیں دل کے اندر کے زہر اور امرت  سے شناسائی حاصل نہیں ہو سکی ہے ۔ ہم نے ایٹم  کی ساخت تو دریافت کر لی ہے لیکن روح کے ایٹم کو جانچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔ اور ہماری سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ ہم نے طاقت اور پاور تو حاصل کر لی ہے لیکن سکون اور روشن ضمیری  سے محروم ہو گئے ہیں ۔
اشفاق احمد  زاویہ 3 مُلا اور سائنسدان  صفحہ 249

" ہاٹ لائین "

دعا ایک اہم چیز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب تم نماز ادا کر چکو تو پھر پہلو کے بل کر یا بیٹھ  کر میرا ذکر کرو ، یعنی میرے ساتھ ایک رابطہ قائم کرو ۔ جب تک یہ تعلق پیدا نہیں ہوگا ، جب تک یہ ہاٹ لائیں نہیں لگے گی ۔ اس وقت تک تم بہت ساری چیزیں سمجھ نہیں سکو گے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 2 ہاٹ لائین صفحہ 96

"ثمر "

میرا پوتا کہتا ہے ! " دادا ہو سکتا ہے کہ درخت ہماری طرح ہی روتا ہو ،  کیونکہ اس کی باتیں اخبار نہیں چھاپتا " ۔ میں نے کہا کہ وہ  پریشان  نہیں ہوتا ، نہ وہ روتا ہے ۔ وہ خوش ہے اور ہوا میں جھومتا ہے ۔ کہنے لگا کہ آپ کو کیسے پتہ کہ وہ خوش ہے ؟ میں نے کہا کہ وہ خوش ایسے ہے کہ ہم کو باقاعدگی سے پھل دیتا ہے جو ناراض ہوگا تو پھل نہیں دے گا ۔

اشفاق احمد زاویہ 2 ماضی کا البم صفحہ 44

" قطع تعلق "

ہمارے بابے کہتے ہیں کہ جب تک دنیا کی ساری لذتوں سے خود کو قطع تعلق نہیں کر لو گے اور انہیں چھوڑ نہیں دو گے اس وقت تک تمہاری سمجھ میں اصل  بات نہیں آئے گی ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  وزڈم آف ایسٹ  صفحہ 58