نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

حضرت امام غزالی ؒ

جب میں اسٹوڈیو آ رہا تھا تو اس وقت میرے سامنے والی گاڑی جو ذرا زیادہ رفتار سے جا رہی تھی ، اس نے ایک سائیکل والے کو ٹکر مار دی ۔ چیں چاں کر کے ٹریفک رکی اور لوگوں کا مجمع سا لگ گیا ۔ کوئی کہہ رہا تھا دوڑ کر پانی لاؤ ۔ کوئی رکشہ  والے کی بات کر رہا تھا  کہ اسے فوراً ہسپتال لے چلو لیکن وہ بوڑھا شخص جان ہار گیا تھا ۔  میں وہاں یہی سوچنے لگا تھا کہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ یہ گاڑی ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے سے ذرا پہلے گذر جاتی یا بعد میں آتی تو شاید وہ بوڑھا شخص جس کی سائیکل پر کوئی ترکارہی وغیرہ لدی ہوئی تھی جان سے نہ جاتا ۔ لیکں خواتین و حضرات  ! اس کا وقت طے تھا ۔ اس گاڑی نے اپنے مقررہ وقت پر وہاں آنا تھا اور اسے  " ہٹ " کرنا تھا ۔ ہماری روز مرہ کی زندگی میں کئی واقعات ایسے رونما ہوتے ہیں کہ ہم کہتے ہیں  کہ کاش ایسا نہ ہوتا ، کاش وہ اس طرح سے کر لیتا ۔ ہمارے گھروں میں عام طور پو عورتیں کہا کرتی ہیں کہ " میں نہ کہتی تھی رشتہ وہاں  نہ کرنا ایسا تو ہونا ہی تھا " ۔ 
لیکن شاید ان سب باتوں میں قدرت کا قسمت کا بھی کوئی عمل دخل ہوتا ہے ۔ پچھلے دنوں میں اسلام آباد جا رہا تھا میں نے ایک ٹرک پر لکھا پڑھا کہ  "  وقت سے پہلے اور قسمت سے زیادہ نہیں ملتا " ۔ میرے نزدیک وہ ٹرک پر لکھی بات بہت بڑی تھی ۔ یہ حضرت امام غزالی ؒ کا قول ہے شاید ۔ 

اشفاق احمد زاویہ 3 فرنٹ سیت صفحہ 103

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…