نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

" ذہن، شعور "

جاننا چاہیے کہ ذہن وہ نوکر ہے ، جس نے اپنے مالک کے گھر پر اس کی غیر موجودگی میں قبضہ کر رکھا ہے ۔ کیا یہ نوکر چاہے گا کہ اس کا مالک واپس آجائے ! وہ اپنے مالک کی واپسی بالکل پسند نہیں کرے گا ۔ ایسے ایسے حیلے ، اور ایسی ایسی ترکیبیں سوچتا رہے گا کہ گھر کا مالک گھر واپس نہ آسکے۔ اس کے بہانوں اور ترکیبوں  میں سب سے بڑی ترکیب یہ  ہو گی کہ خود ہی کو گھر کا مالک سمجھنے لگ جائے ۔ اور خود ہی سب کو بتاتا پھرے کہ وہی بلا شرکت غیرے مالک ہے ۔ 
چنانچہ ذہن کبھی بھی شعور کو اندر داخل ہونے نہیں دے گا ۔ جو اصل مالک خانہ ہے ۔ لیکن اگر شعور کو گھر واپس لانا چاہتے ہیں اور حقدار کو اس کا حق واپس دلانا چاہتے ہیں ۔ تو پھر دماغ کو ریلیکس کرنے کا طریق اپنا لیں ، اس کو کارکردگی اور عمل سے نکالیں ۔ اسے خالی کر دیں ، اسے کھلا چھوڑ یں ۔ اسے نیوٹرل کلچ میں ڈال دیں ۔ اس کی موت واقع ہونے لگے گی ۔ اور جونہی اس کی موت واقع ہوگی گھر کا قبضہ اس کے مالک کو مل جائے گا۔ 

اشفاق احمد زاویہ 3 علم فہم اور ہوش صفحہ 291

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15