نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

January, 2014 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

" سجودِ ملائک "

اللہ تعالیٰ نے انسان کو تو بہت اعلیٰ و ارفع اور سجود و ملائک بنا کر بھیجا  ہے ۔ یہ باتیں یاد رکھنے کی ہیں کہ اب تک جتنی بھی مخلوق نے انسان کو سجدہ کیا تھا، وہ انسان کے ساتھ ویسا ہی نباہ کر رہی ہے۔ یعنی شجر، حجر، نبادات، جمادات ، اور فرشتے ، وہ بدستور انسان کا احترام کررہے ہیں ۔انسان سے کسی کا احترام  کم ہی ہوتا ہے ۔  اب جب ہم یہاں بیٹھے ہیں ، تو اس وقت کروڑوں ٹن برف کے ٹو پر پڑی آوازیں دے دے کر پکار پکار کر سورج کی منتیں کر رہی ہے  کہ " ذرا ادھر کرنیں زیادہ ڈالنا ، سندھ میں پانی نہیں ہے ۔  جہلم، چناب خشک ہیں ۔ اور مجھے وہاں پانی پہنچانا ہے ۔  نوع انسان کو پانی کی  ضرورت ہے " ۔ برف اپنا آپ پگھلاتی ہے اور آپ کو پانی دے کر جاتی ہے ۔  صبح کے وقت اگر آپ غور سے سوئی گیس کی آواز سنیں اور اگر آپ اس درجے یا جگہ پر پہنچ جائیں جہاں سے آپ اس کی آوازیں سن سکیں تو وہ چیخ چیخ کر اپنے سے نیچے والی کو کہہ رہی ہوتی ہے  " نی کڑیو ! چھیتی کرو۔  ، باہر نکلوجلدی کرو تم تو ابھی ہار سنگھار کر رہی ہو ۔ بچوں نے سکول جانا ہے ۔ ماؤں نے ان کو  ناشتہ دینا ہے ۔  لوگوں کو دفتر جانا ہے ۔ چلو اپنا آپ ق…

" مالِ حرام "

حرص کے ساتھ مال حرام جمع نہیں کرنا چاہیے ۔ کیونکہ اگر جمع کر بھی لیا تو ممکن ہے اتفاقاً بیمار ہو گیا کہ کھانے سے بھی معذور ہو گیا یا اس مال کو چور لے گئے فائدہ اتنا ہی ملا جتنا تقدیر میں تھا ۔ افسوس یہ کہ کچھ لوگ اپنے ورثا کے لیے حرام مال جمع کرتے ہیں وہ  خود تو دوزخ میں گئے آرام حاصل کیا دوسروں نے ۔   
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 617

" صاحبِ ایقان "

جس کا ماضی پاک ہے وہ انسان ہے ۔ جس کا حال محبت ہے، وہ صاحبِ ایقان ہے ۔ اور جس کا مستقبل شریعت ہے وہ  اہلِ ایمان ہے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 637

" ڈبلیو، ڈبلیو ، ایف "

ہمیں ایسا ہونا ہوگا جو مفکرِ پاکستان کہہ گئے  ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم  رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن  لیکن ہم تو حلقہ یاراں میں فولاد سے زیادہ سخت بننے کے لیے کوشاں ہیں ۔     ہمیں اپنے رویوں میں محبت اور نرم خوئی شفقت لانے کے لیے خود سے ہی ریسلنگ کرنی پڑی  گی ۔ اور اپنے وجود کے اندر ہی ڈبلیو ڈبلیو ایف جیسی صورتحال پیدا کرنی پڑی گی ۔ اپنی خواہشوں سے اپنے وجود اور روح کے اندر ہی ریسلنگ کرنا پڑے گی ، پھر کہیں جا کر ہمارے وجود اور چہرے پرسکون ہو پائیں گے ۔

اشفاق احمد زاویہ 3 رویوں کی تبدیلی صفحہ 26

" کنٹرول"

تم لوگوں کے منہ بند نہیں کر سکتے ، وہ جو چاہیں گے کہیں گے ۔ پھر لوگوں کے ذہنوں پر کسی کا کنٹرول نہیں ہوتا ۔ صرف اپنے ذہن پر ہوتا ہے ۔ اور بے وقوف لوگ اپنے ذہن پر کنٹرول کرنے کے بجائے لوگوں کے ذہن  پر طاقت آزمائی شروع کر دیتے ہیں ۔
اشفاق احمد  بابا صاحبہ صفحہ 514

" ملجا و ماوا "

ہم نے سوچا کہ یہ ہمارا گھر ہے ۔ بنا بھی صاف ستھرا ہے اور ہم اپنے اللہ تعالیٰ کو اپنے گھر لے آتے ہیں ۔ اور ان کی بڑی مہربانی کہ وہ آگئے ۔ اور وہ یہاں رہتے ہیں اور اور یہاں تشریف فرما ہیں ۔
اب ہماری دن رات یہ کوشش رہتی ہے اور ہم ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کہیں کوئی ایسا فعل تو نہیں سرزد ہو گیا کہ اس سے اللہ ناراض ہو جائے یا کوئی ایسی خوشی کی بات کہ جس سے اللہ خوش ہوا ہو ۔ ہم اس کے درمیان گھومتے رہتے ہیں اور ہماری زندگی کا مرکز ملجا و ماویٰ اللہ کی ذات ہے ۔ اور ہم بندوں سے منسلک ہو گئے کہ اگر اللہ سے محبت کرنی ہے تو پھر بندوں سے محبت ضروری ہے اگر بندوں کی خدمت کرنی ہے تو اللہ کے لیے کرنی ہے ۔ بندوں سے کسی صلے یا انعام کی توقع نہیں رکھنی ۔

اشفاق احمد زاویہ 3  تصوّف اور ازدواجی زندگی صفحہ 179

" خرابی "

ایک مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جو خرابی ہم میں موجود ہوتی ہے ہم خیال کرتے ہیں کہ یہ خرابی دوسروں میں بھی ضرور ہوگی ۔  اشفاق احمد زاویہ 3  خدا سے زیادہ جراثیموں کا خوف  صفحہ 225

" قربانی "

ہمارے بابے کہتے ہیں کہ وہی چیز یا شے روشنی عطا کرتی ہے اور دوسروں  کی فلاح کا کام  کرتی ہے جو خود سے قربانی دیتی ہے ۔ اپنے اوپر ضبط کرتی ہے ۔  لکڑی جلتی ہے تو کھانا تیار ہوتا ہے یا سردی میں ہمیں  حدت پہنچاتی ہے ۔ آم کا درخت  اپنے شاخون پر آموں کا بوجھ برداشت کرتا ہے  تو ہمیں  گرمیوں میں کھانے کو آم ملتے ہیں ۔ اور اگر ہم انسان قربانی دیتے ہیں تو دوسروں کی فلاح کرتے ہیں ، چاہے وہ قربانی کسی مرتے ہوئے کو خون دینے کی ہو یا محض کسی کو تسلی دینے کی ۔ اپنا تھوڑا وقت لوگوں کے نام کرنا ہو یا کسی اور انداز میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3 اندھا کنواں صفحہ 222

" بھیں بھیں "

آپ جانتے ہیں کہ ننھے سے بیج میں کتنی معمولی طاقت ہوتی ہے ۔ لیکن وہ گھٹن کے لمحے گذار کر زمین کا سینہ چیرنے میں بالآخر کامیاب ہو ہی جاتا ہے ۔ اور بوجھ برداشت کرنے کے بعد اس میں اتنی طاقت آجاتی ہے کہ وہ کرہ ارض کو پھاڑ کر باہر آجاتا ہے ۔
جو ہم مشکل پڑنے پر " بھیں بھیں " رونا شروع کر دیتے ہیں تو یہ بڑی ندامت کی بات ہے ۔ ایک ننھا بیج اگر گھٹن اور سختیوں کا مقابلہ کر سکتا ہے تو ہمیں جان کے لالے کیوں پڑ جاتے ہیں ۔

اشفاق احمد زاویہ 3 مسٹر بٹ سے اسلامی بم تک صفحہ 166