" بھیں بھیں "

آپ جانتے ہیں کہ ننھے سے بیج میں کتنی معمولی طاقت ہوتی ہے ۔ لیکن وہ گھٹن کے لمحے گذار کر زمین کا سینہ چیرنے میں بالآخر کامیاب ہو ہی جاتا ہے ۔ اور بوجھ برداشت کرنے کے بعد اس میں اتنی طاقت آجاتی ہے کہ وہ کرہ ارض کو پھاڑ کر باہر آجاتا ہے ۔
جو ہم مشکل پڑنے پر " بھیں بھیں " رونا شروع کر دیتے ہیں تو یہ بڑی ندامت کی بات ہے ۔ ایک ننھا بیج اگر گھٹن اور سختیوں کا مقابلہ کر سکتا ہے تو ہمیں جان کے لالے کیوں پڑ جاتے ہیں ۔

اشفاق احمد زاویہ 3 مسٹر بٹ سے اسلامی بم تک صفحہ 166