" ملجا و ماوا "

ہم نے سوچا کہ یہ ہمارا گھر ہے ۔ بنا بھی صاف ستھرا ہے اور ہم اپنے اللہ تعالیٰ کو اپنے گھر لے آتے ہیں ۔ اور ان کی بڑی مہربانی کہ وہ آگئے ۔ اور وہ یہاں رہتے ہیں اور اور یہاں تشریف فرما ہیں ۔
اب ہماری دن رات یہ کوشش رہتی ہے اور ہم ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کہیں کوئی ایسا فعل تو نہیں سرزد ہو گیا کہ اس سے اللہ ناراض ہو جائے یا کوئی ایسی خوشی کی بات کہ جس سے اللہ خوش ہوا ہو ۔ ہم اس کے درمیان گھومتے رہتے ہیں اور ہماری زندگی کا مرکز ملجا و ماویٰ اللہ کی ذات ہے ۔ اور ہم بندوں سے منسلک ہو گئے کہ اگر اللہ سے محبت کرنی ہے تو پھر بندوں سے محبت ضروری ہے اگر بندوں کی خدمت کرنی ہے تو اللہ کے لیے کرنی ہے ۔ بندوں سے کسی صلے یا انعام کی توقع نہیں رکھنی ۔

اشفاق احمد زاویہ 3  تصوّف اور ازدواجی زندگی صفحہ 179