" قربانی "

ہمارے بابے کہتے ہیں کہ وہی چیز یا شے روشنی عطا کرتی ہے اور دوسروں  کی فلاح کا کام  کرتی ہے جو خود سے قربانی دیتی ہے ۔ اپنے اوپر ضبط کرتی ہے ۔ 
لکڑی جلتی ہے تو کھانا تیار ہوتا ہے یا سردی میں ہمیں  حدت پہنچاتی ہے ۔ آم کا درخت  اپنے شاخون پر آموں کا بوجھ برداشت کرتا ہے  تو ہمیں  گرمیوں میں کھانے کو آم ملتے ہیں ۔ اور اگر ہم انسان قربانی دیتے ہیں تو دوسروں کی فلاح کرتے ہیں ، چاہے وہ قربانی کسی مرتے ہوئے کو خون دینے کی ہو یا محض کسی کو تسلی دینے کی ۔ اپنا تھوڑا وقت لوگوں کے نام کرنا ہو یا کسی اور انداز میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ ۔ 

اشفاق احمد زاویہ 3 اندھا کنواں صفحہ 222