نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

February, 2014 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

" بھانڈا "

بس عبادت کی اتنی ساری حقیقت ہے بابو لوکا ! عبادت کا بھانڈا تیار ہو ، سائیں کی کرم کی نظر پڑ جائے ، تو باگو باگ ہو جاتا ہے ۔ قیمت وہ ملتی ہے جو سان میں نہ گمان میں ۔ پر جو بھانڈا ہی پاس نہ ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔تو خالی بندے پر کیا نظر پڑنی ہے ! کدھر سے عطا آنی ہے ! کدھر سے نوازا جاتا ہے ؟ بھانڈا تیار رکھ اور اس کی نظر کی راہ دیکھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اشفاق احمد  من چلے کا سودا صفحہ   79

" لقمہ "

آپ منہ میں روٹی کا ایک لقمہ رکھ کر تین دن گھومتے رہیں وہ آپ کی نشو و نما کا باعث نہیں بن سکے گا جب تک کہ وہ آپ کے معدے میں نہ اتر جائے ۔ اور معدے میں اتر کر آپ کے خون کا حصہ نہ بن جائے ۔ اور پھر آپ کو تقویت عطا ہوتی ہے ۔ میں آپ اور ہم سب منہ کے اندر رکھے علم کو ایک دوسرے پر اگلتے رہتے ہیں ۔ اور پھینکتے رہتے ہیں ۔ پھر اس بات کی توقع رکھتے ہیں اور وسچتے ہیں کہ ہم کو اس سے خیر کیوں حاصل نہیں ہوتی ۔

اشفاق احمد  زاویہ 2 عالم اصغر سے عالم اکبر تک  صفحہ 147

" شیطان "

اس میں کوئی شک نہیں کہ غلطی پکڑنا اور غلطی کی نشاندہی کرنا انسانی فطرت میں شامل ہے ۔ لیکن یہ بات بھی ہر حال میں یاد رکھنے کے قابل ہے کہ انسان غلطی بھی کرتا ہے اور ناکام بھی ہوتا ہے ۔ اور اپنی ترقی کے راستہ پہ رک بھی جاتا ہے ۔ لیکن اس ساری کائنات میں صرف خدا کی ذات وہ ہستی ہے جو نہ تو کبھی غلطی کرتی ہے اور نہ ہی کبھی ناکام ہوتی ہے ۔ جو لوگ ہر وقت دوسروں کی غلظیاں پکڑنے میں مصروف رہتے ہیں یا جو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر افسوس کرتے رہتے ہیں وہ نعوذباللہ اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگ جاتا ہے اور جب ان سے خدا نہیں بنا جاتا تو کہ ایسا ممکن ہی نہیں ہے تو پھر وہ شیطان بن جاتے ہیں ۔ اور اس میں اپنا اور دوسروں کا نقصان کر لیتے ہیں ۔ اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 417

" کشش "

ہم کو وہی کچھ نصیب ہوتا ہےجس دنیا میں ہم آباد ہیں ۔آپ کے اندر ایک کشش ہے اور وہ ایسی چیزوں کو آپ کی طرف کھینچتی ہےجس کی اس کو چاہت ہوتی ہے ۔ مثل اپنی مثل کو کھینچتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔یہ قدرت کا ایک اصول ہے ۔ شیر ، شیروں کے ساتھ مل کر رہنا پسند کرتے ہیں ۔ اور گیدڑ ، گیدڑوں کے ساتھ ۔ اگر آپ اپنے آپ کو تبدیل کر لیں گے  تو آپ کی کشش دوسری قسم کی مطلوبات کو کھینچنے لگے گی اور تبدیلی کے لیے وہی اصول ہے جس کا بار بار ذکر ہوا ہے کہ اس نیچر کو ڈھونڈھو جو تمہاری اصل نیچر ہے ۔ وہ نہیں جس کا آپ نے لبادہ اوڑھ رکھا ہے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 505 

" ریڈیو اسٹیشن "

جب ہمارا ریڈیو  اسٹیشن نیا نیا بنا تھا تو بارش میں ایک تو اس کی چھتوں پر پانی کھڑا ہو جاتا تھا اور دوسرا کھڑکی کے اندر سے پانی کی اتنی دھاریں آ جاتی تھیں  کہ کاغذ اور ہم خود بھی بھیگ جاتے ۔ ایک روز ایسی ہی بارش میں ہم سب بیٹھ کر اس کو تعمیر کرنے والوں کو صلواتیں سنانے  لگے  کہ ایسا ہی ہونا تھا ۔ بیچ سے پیسے جو کھا لیے ہوں گے وغیرہ وغیرہ ۔ ہمارے ساتھ  ہمارے ایک ساتھی قدیر ملک وہ صوتی اثرات کے ماہر تھے ۔ وہ سائیکل بڑی تیز چلاتے تھے ۔ دبلے پتلے آدمی تھے ۔ وہ تیز بارش میں سائیکل لے کر غائب ہو گئے ۔ ان کے گھر میں پرانا کنستر کا ایک ٹکڑا پڑا تھا ۔ وہ اسے لے آئے اور چھت پر اسے ٹیڑھا کر کے ایک اینٹ نکال کر فکس کر دیا ۔ اس طرح پر نالہ بن گیا ۔ اور چھت کا اور بارش کا پانی کمرے میں آئے بغیر شرر شرر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کرتا باہر گرنے لگا ۔ ہم نے کہا کہ بھائی یہ کیا ہوگیا ابھی بوچھاڑ اندر کو آ رہی تھی تو قدیر ملک کہنے لگا پتہ نہیں کیا ہوگا مگر اب تو ٹھیک ہو گیا ۔  بیٹھ کر اب اپنا کام کرو ۔ 
اشفاق احمد  زاویہ  سائیکو اینالسس صفحہ 84

" رشوت "

آخر کار یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی کہ کوئی شخص اس وقت تک رشوت نہیں لے سکتا  جب تک کہ وہ اپنے آپ کو خوار ، ذلیل ،  پریشان اور زبوں حال نہ سمجھے ۔ پہلے اپنے دل اور اپنی روح کے نہاں خانے میں انسان اپنے آپ کو ذلیل، کمینہ ،چھوٹا اور گھٹیا سمجھتا ہے اس کے بعد وہ رشوت کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے ۔

 اشفاق احمد زاویہ 2 رشوت  صفحہ  113   


" نفسیاتی تجزیہ "

اگر کوئی گروہِ انسانی اپنے آپ کو تلاش کرنا چاہتا ہے اور راست روی پر قائم ہونا چاہتا ہے تو پھر اسے اپنا تجزیہ کرنا پڑے گا ۔ میں اپنا تجزیہ کرنے کے لیے بڑا زور لگاتا ہوں ، مگر کر نہیں پاتا ۔  حالانکہ دوسرے کا تجزیہ فوراً کر لیتا ہوں ۔ میں ایک سیکنڈ میں بتا دیتا ہوں کہ میرے محلے کا کونسا آدمی کرپٹ ہے ۔ میرے دوست میں کیا خرابی ہے ۔ لیکن مجھے اپنی خرابی نظر آتی ہی نہیں ۔ میں نے بڑا زور لگایا ہے بڑے دم درود کروائے ہیں  نفسیاتی تجزیہ کروایا ہپناٹزم کروایا کہ میرا کچھ تو باہر آئے مجھے اپنی خامیوں کا پتہ چلے ۔ مجھے لگتا ہے کہ میں تو ایک بہت سمجھدار عاقل فاضل ہوں ۔ مجھ سے زیادہ دانشمند آدمی تو ہے ہی نہیں ۔ اگر آپ مطالعہ کریں اور کھلی نظروں سے دیکھیں تو آپ پر یہ کیفیت عجیب و غریب طریقے سے وارد ہوں گی کہ بندہ اپنے آپ کو کیسا سمجھتا ہے اور اصل میں ہوتا کیا ہے ۔
اشفاق احمد زاویہ 2 سائیکو اینالسس صفحہ 83

" سوال و جواب "

سوال : درویش ، فقیر اور صوفی میں کیسے امتیاز کیا جائے ؟ ۔  جواب : جس کا لباس  حضور ﷺ  کی اتباع ہو وہ درویش ہے ۔ جسے فاقہ، قناعت اور ریاضت کا شرف ہو وہ فقیر ہے ۔ اور جو خلوت و جلوت میں صاف ہو اپنے ساتھ بھی ، اللہ کے ساتھ بھی وہ صوفی ہے ۔ یہ سب پاک جماعت کے افراد کے نام اور مقام ہیں ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 626

: جوگ "

جوگ کا پہلا قدم تب اٹھے گا جب غصے کو ختم کرے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غرور تکبر راکھ بنا کر ، حکم حکومت داؤ پر لگا دے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ رنگ اتار پھینک تب جوگ کی سوچنا ۔

اشفاق احمد من چلے کا سودا صفحۃ 13

" شارٹ سرکٹ "

صوفی لوگ کہتے ہیں  کہ اگر صوفی ازم  کا علم  حاصل کرنا ہو تو صوفیوں سے میل ملاپ رکھنا چایے ۔ کتابوں سے اور بات چیت سے اور لیکچروں سے یہ علم  حاصل نہیں ہو سکتا ۔ محبت کرنے کے لیے ایک محبوب ہونا چاہیے ۔ ایک محبت کرنے والا درکار ہے ۔ کتاب کے ذریعے آپ محبت کا سبق نہیں پڑھ سکتے کیونکہ اس کا تعلق دماغ سے نہیں دل سے ہے ۔ سائنس اور ٹیکنالاجی حساب اور اکنامکس گرامر اور زباندانی دماغ سے تعلق رکھنے والے علم ہیں ۔ یہ کتاب کے ذریعے یا سمعی و بصری آلات کے ذریعے حاصل ہو سکتے ہیں ۔ لیکن دل کی باتیں دل کے اپریٹس پر ہی موصول کی جا سکتی ہیں ۔ اگر ان کو جاننے کے لیے دماغ کا آلہ استعمال کیا جائے تو شارٹ سرکٹ ہو جاتا ہے ۔ پھر انسان کے اندر ایسا اندھیرا چھا جاتا ہے کہ بڑی سے بڑی روشنی بھی وہاں اجالا نہیں کر سکتی ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا 380

" رو گردانی "

کاغذ پر دی ہوئی چیز اور لکھی ہوئی چیز اور کاغذ پر کیا ہوا دعویٰ انسان کا دعویٰ نہیں ہوتا ۔ وہ قابلِ اعتبار نہیں ہوتا اس سے پھسلا بھی جا سکتا ہے ۔ جب تک انسان اس دعوے یا وعدے پر اندر سے قائل نہیں ہوگا تب تک کاغذ پر کیے ہوئے وعدے ہیں تو ٹھیک ، تاریخی اعتبار سے لیکن ان سے پھسل جانے کا اندیشہ موجود رہتا ہے ۔
ماضی کی زندگی میں جتنے بھی جھگڑے انسانوں میں ہوتے رہے ہیں وہ سارے کہ سارے اس وجہ سے ہوئے کہ انہوں نے عہد سے رو گردانی کی اور وہ عہد سے پھر گئے ۔

اشفاق احمد زاویہ 3  پچاس برس پہلی کی دعا صفحہ 101

" لا تعلقی "

آج سے کئی برس پہلے کی بات ہے ۔ میں ایک رسالہ دیکھ رہا تھا تو اس میں ایک تصویر نما کارٹون تھا  ۔ جس میں ربڑ کی ایک بہت مضبوط کشتی گہرے سمندروں میں چلی جا رہی تھی ۔ اس ربڑ کی مضبوط کشتی کے ایک طرف سوراخ ہو گیا اور سمندر کا پانی کشتی میں داخل ہونے لگا ۔ کشتی میں جو لوگ بیٹھے ہوئے تھے وہ ڈبے گلاس اور مگ لے کر یا جو کچھ بھی ان کے پاس تھا پانی نکالنے کی کوشش کرنے لگے ۔   اس کشتی کی دوسری سائیڈ پر جس طرف سوراخ نہیں ہوا تھا  جو لوگ بیٹھے تھے انتہائی پرسکون نظر آ رہے تھے ۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ ہمیں بھی پانی نکالنا چاہیے  لیکن اس کے ساتھیوں نے کہا دفع کرو  یہ ہماری سائیڈ تھوڑی ہے ، اس سے ہمارا کیا تعلق وہ خود ہی نکال لیں گے ۔  
اشفاق احمد زاویہ 3  روشنی کا سفر صفحہ 170

" وش ویل "

دعا لفظوں کے ساتھ مانگی جاتی ہے لیکن جب آپ کسی کے لیے " وش ویل "  نیک خواہشات کے اظہار کے طور پر کریں آرزو اچھی رکھیں اور آپ کسی کو کہہ دیں غلام  محمد  بڑا اچھا آدمی ہے اللہ اس کو بھاگ لگائے چاہے آپ کسی کو بے خیالی میں کہہ دیں پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ آپ کی وہ دعا قبول نہ ہو ۔

اشفاق احمد زاویہ 2  " وش ویل " صفحہ 49

" تاجِ شاہانہ "

اگر آپ ، جو کچھ آپ کے پاس ہے ۔اس میں سے حصہ بٹا سکیں تو آپ ایک دم سے عدم اور نامعلوم دنیا کے وی، وی آئی ، پی بن جاتے ہیں ۔ وہاں آپ کا ایک مقام مقرر ہو جاتا ہے ۔ اِس دنیا میں چاہے آپ فقیر  ہوں ، بے نوا ہوں ، گداگر ہوں وہاں آپ کے سر پر تاجِ شاہانہ رکھ دیا جاتا ہے ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 589