" نفسیاتی تجزیہ "

اگر کوئی گروہِ انسانی اپنے آپ کو تلاش کرنا چاہتا ہے اور راست روی پر قائم ہونا چاہتا ہے تو پھر اسے اپنا تجزیہ کرنا پڑے گا ۔ میں اپنا تجزیہ کرنے کے لیے بڑا زور لگاتا ہوں ، مگر کر نہیں پاتا ۔  حالانکہ دوسرے کا تجزیہ فوراً کر لیتا ہوں ۔ میں ایک سیکنڈ میں بتا دیتا ہوں کہ میرے محلے کا کونسا آدمی کرپٹ ہے ۔ میرے دوست میں کیا خرابی ہے ۔ لیکن مجھے اپنی خرابی نظر آتی ہی نہیں ۔ میں نے بڑا زور لگایا ہے بڑے دم درود کروائے ہیں  نفسیاتی تجزیہ کروایا ہپناٹزم کروایا کہ میرا کچھ تو باہر آئے مجھے اپنی خامیوں کا پتہ چلے ۔ مجھے لگتا ہے کہ میں تو ایک بہت سمجھدار عاقل فاضل ہوں ۔ مجھ سے زیادہ دانشمند آدمی تو ہے ہی نہیں ۔ اگر آپ مطالعہ کریں اور کھلی نظروں سے دیکھیں تو آپ پر یہ کیفیت عجیب و غریب طریقے سے وارد ہوں گی کہ بندہ اپنے آپ کو کیسا سمجھتا ہے اور اصل میں ہوتا کیا ہے ۔
 
 
اشفاق احمد زاویہ 2 سائیکو اینالسس صفحہ 83