نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

" ریڈیو اسٹیشن "

جب ہمارا ریڈیو  اسٹیشن نیا نیا بنا تھا تو بارش میں ایک تو اس کی چھتوں پر پانی کھڑا ہو جاتا تھا اور دوسرا کھڑکی کے اندر سے پانی کی اتنی دھاریں آ جاتی تھیں  کہ کاغذ اور ہم خود بھی بھیگ جاتے ۔ ایک روز ایسی ہی بارش میں ہم سب بیٹھ کر اس کو تعمیر کرنے والوں کو صلواتیں سنانے  لگے  کہ ایسا ہی ہونا تھا ۔ بیچ سے پیسے جو کھا لیے ہوں گے وغیرہ وغیرہ ۔ ہمارے ساتھ  ہمارے ایک ساتھی قدیر ملک وہ صوتی اثرات کے ماہر تھے ۔ وہ سائیکل بڑی تیز چلاتے تھے ۔ دبلے پتلے آدمی تھے ۔ وہ تیز بارش میں سائیکل لے کر غائب ہو گئے ۔ ان کے گھر میں پرانا کنستر کا ایک ٹکڑا پڑا تھا ۔ وہ اسے لے آئے اور چھت پر اسے ٹیڑھا کر کے ایک اینٹ نکال کر فکس کر دیا ۔ اس طرح پر نالہ بن گیا ۔ اور چھت کا اور بارش کا پانی کمرے میں آئے بغیر شرر شرر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کرتا باہر گرنے لگا ۔ ہم نے کہا کہ بھائی یہ کیا ہوگیا ابھی بوچھاڑ اندر کو آ رہی تھی تو قدیر ملک کہنے لگا پتہ نہیں کیا ہوگا مگر اب تو ٹھیک ہو گیا ۔  بیٹھ کر اب اپنا کام کرو ۔ 

اشفاق احمد  زاویہ  سائیکو اینالسس صفحہ 84 

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…