" ریڈیو اسٹیشن "

جب ہمارا ریڈیو  اسٹیشن نیا نیا بنا تھا تو بارش میں ایک تو اس کی چھتوں پر پانی کھڑا ہو جاتا تھا اور دوسرا کھڑکی کے اندر سے پانی کی اتنی دھاریں آ جاتی تھیں  کہ کاغذ اور ہم خود بھی بھیگ جاتے ۔ ایک روز ایسی ہی بارش میں ہم سب بیٹھ کر اس کو تعمیر کرنے والوں کو صلواتیں سنانے  لگے  کہ ایسا ہی ہونا تھا ۔ بیچ سے پیسے جو کھا لیے ہوں گے وغیرہ وغیرہ ۔ ہمارے ساتھ  ہمارے ایک ساتھی قدیر ملک وہ صوتی اثرات کے ماہر تھے ۔ وہ سائیکل بڑی تیز چلاتے تھے ۔ دبلے پتلے آدمی تھے ۔ وہ تیز بارش میں سائیکل لے کر غائب ہو گئے ۔ ان کے گھر میں پرانا کنستر کا ایک ٹکڑا پڑا تھا ۔ وہ اسے لے آئے اور چھت پر اسے ٹیڑھا کر کے ایک اینٹ نکال کر فکس کر دیا ۔ اس طرح پر نالہ بن گیا ۔ اور چھت کا اور بارش کا پانی کمرے میں آئے بغیر شرر شرر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کرتا باہر گرنے لگا ۔ ہم نے کہا کہ بھائی یہ کیا ہوگیا ابھی بوچھاڑ اندر کو آ رہی تھی تو قدیر ملک کہنے لگا پتہ نہیں کیا ہوگا مگر اب تو ٹھیک ہو گیا ۔  بیٹھ کر اب اپنا کام کرو ۔ 

اشفاق احمد  زاویہ  سائیکو اینالسس صفحہ 84