" کشش "

ہم کو وہی کچھ نصیب ہوتا ہےجس دنیا میں ہم آباد ہیں ۔آپ کے اندر ایک کشش ہے اور وہ ایسی چیزوں کو آپ کی طرف کھینچتی ہےجس کی اس کو چاہت ہوتی ہے ۔ مثل اپنی مثل کو کھینچتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔یہ قدرت کا ایک اصول ہے ۔ شیر ، شیروں کے ساتھ مل کر رہنا پسند کرتے ہیں ۔ اور گیدڑ ، گیدڑوں کے ساتھ ۔ اگر آپ اپنے آپ کو تبدیل کر لیں گے  تو آپ کی کشش دوسری قسم کی مطلوبات کو کھینچنے لگے گی اور تبدیلی کے لیے وہی اصول ہے جس کا بار بار ذکر ہوا ہے کہ اس نیچر کو ڈھونڈھو جو تمہاری اصل نیچر ہے ۔ وہ نہیں جس کا آپ نے لبادہ اوڑھ رکھا ہے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 505