نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

March, 2014 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

" قابلِ رشک "

آپ کبھی فجر کی نماز کے بعد کسی ان پڑھ عام سے کپڑے پہنے کسی دیہاتی کو جسے وضو اور غسل کے فرائض سے بھی شاید پوری طرح واقفیت نہ ہو وہ جب نماز کے بعد قرآن پاک پڑھنےکے لیے کھولے گا تو قرآن پاک کا غلاف کھولنے سے پہلے دو بار اسے آنکھوں سے لگائے گا اور چومے گا ۔ اس کی اس پاک کتاب سے عقیدت اور محبت دیدنی ہوتی ہے ۔وہ قرآن پاک میں لکھی عربی کی آیات کی معانی سے واقف نہیں ہوتا لیکن وہ جس محبت سے اسے پڑھ رہا ہوتا ہے وہ قابلِ رشک ہوتا ہے ۔  
اشفاق احمد زاویہ 3 لچھے والا صفحہ 29

" خالی دریا "

ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں ۔ بادام، چلغوزہ تیار ہوگا ۔ بارش برسے گی تو دریاؤں ، نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔  کہیں کہ خزاں کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔  ہم بجائے کسی بات کو نیگیٹو  لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں ۔اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری  ممکن ہے  وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔  اشفاق احمد زاویہ 3 ناشکری کا عارضہ صفحہ 15

" سب کا بھلا سب کی خیر "

میں اور ممتاز مفتی ایک بار ایک ایسے سفر پر گئے جب ہمیں ایک صحرا سے گذرنا پڑا ۔ ہمیں وہاں  ایک بڑی مشکل ہو گئی ۔ نہ پانی تھا نہ کھانے کو کچھ اور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ممتاز مفتی مجھے کوسنے لگا اور میں ان سے کہنے لگا کہ میں نے نہ کہا تھا کہ یہ راستہ اختیار نہ کرو بہر حال ہم چلتے گئے  اور اس جانب چلے  جہاں دور ایک جھونپڑی دکھائی پڑتی تھی ۔ ہم تھکے ہارے اس جھونپڑی میں پہنچے  تو وہاں ایک سندھی ٹوپی پہنے کندھوں پر شال پہنے ایک بڑی عمر کے شخص بیٹھے تھے ۔ ان کی خستہ حالی تو ہم پر عیاں  ہو رہی تھی مگر ان میں ایک عجیب طرح کا اعتماد تھا ۔ ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔ دبا دبا کے گلے ملے ۔ کنستر سے پانی کا لوٹا بھرا ہمارے منہ ہاتھ دھلائے ۔ ان کی جھونپڑؑی میں ایک صف سے بچھی تھی ۔ اس پر ہمیں ایسے بٹھایا کہ جیسے ہمارا انتظار کر رہے ہوں ۔ ہم نے ان سے کہا کہ " بڑے میاں آپ اس بیان میں کیسے رہ رہے ہیں؟ " ۔ وہ بولے " کیا خدا نے اپنی مخلوق سے رزق کا وعدہ نہیں کر رکھا " ۔  ہم نے یک زبان ہو کر کہا  " ہاں کر رکھا ہے " ۔  ہم نے ان سے دریافت کیا کہ " آپ کا ذریعہ معاش کیا ہے ؟ " ۔  …

" ردا "

میرے مسلمان ہونے کا ٹیسٹ اور میرے اسلام کی کسوٹی میرا گرد و پیش میرے ارد گرد کے لوگ اور میرا معاشرہ ہے جس کے اندر میں موجود ہوں ۔ اگر میرے ارد گرد کے لوگ سلامتی سے ہمکنار ہیں اور شر اور فساد سے محفوظ ہیں ۔ خیر کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ آسانی اور آزادی سے سانس لے رہے ہیں ہر طرح سے سوکھے ہیں تو میں اسلام کے اندر ہوں ۔ اور اس خوشبودار ردا میں لپٹا ہوا ہوں جو ارد گرد کی کثافت دور کر رہی ہے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 458

" ریورس افیکٹ "

اس دنیا میں کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں  جنہیں تم کرنے کی کوشش کرو گے تو خود ہی ناکردہ کر بیٹھو گے ۔ اگر ان کو نہیں کرو گے اس کے لیے کوشش نہیں کرو گے تو کر لو گے ۔ تمہاری کوشش ہی تم کو " ریورس ایفیکٹ "  کی طرف لے جائے گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔  مثلاً سونے کی کوشش کرو زور لگاؤ ساری توجہ سونے پر دو، نہیں سو سکو گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔جب تم اس کوشش کو چھوڑ کر ڈھیلے پڑ جاؤ گے فوراً سو جاؤ گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 474

" چھب "

میری بیٹیاں بہوئیں جب بھی کوئی رشتہ  دیکھنے جاتی ہیں تو میں ہمیشہ ایک بات سنتا ہوں کہ بابا جی ! لڑکی بڑی اچھی  ہے لیکن اس کی " چھب " پیاری نہیں ہے ۔  پتہ نہیں یہ " چھب " کیا بلا ہوتی ہے ۔

اشفاق احمد زاویہ دوم  سائیکو اینالسس صفحہ 85

" دست بستہ "

مانگنے کا طریقہ یہ ہو کہ " اے اللہ میرے لیے جو بہتر ہے مجھے وہ عطا فرما " ۔ میں انسان ہوں اور میری آرزوئیں اور خواہشیں بھی بہت زیادہ ہیں ۔ میری کمزوریاں بھی میرے ساتھ ساتھ ہیں اور تو پروردگارِ مطلق ہے میں بہت دست بستہ انداز میں عرض کرتا ہوں کہ مجھے کچھ ایسی چیز عطا فرما جو مجھے بھی پسند آئیں  اور میرے ارد گرد رہنے والوں کو میری عزیز و اقارب کو بھی پسند ہوں اور اس میں تیری رحمت بھی شامل ہو ۔

اشفاق احمد زاویہ 2  ہاٹ لائن  صفحہ 96

" قدرِ مشترک "

جب دولت پر دولت ٹھونسی جائے ، نکاسی کے راستے بند کیے جائیں تو جان لیوا قبض ہو جاتی ہے ۔ دولت کو جمع کرتے جائیں تو بدبو دار روڑی بن جاتی ہے ۔ اور اسی روڑی کو بکھیر دیں تو اعلیٰ درجے کی کھاد بن جاتی ہے ۔ اسی طرح دولت بکھرتی رہے تو اچھا ہے لیکن دولت میں اور شٹ میں میں ایک ہی قدر مشترک ہے ۔ کہ دونوں ہی خوشحالی کے ضامن ہوتے ہیں ایک معاشرے میں اور ایک کھیت میں ۔  اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 595