نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

" سب کا بھلا سب کی خیر "

میں اور ممتاز مفتی ایک بار ایک ایسے سفر پر گئے جب ہمیں ایک صحرا سے گذرنا پڑا ۔ ہمیں وہاں  ایک بڑی مشکل ہو گئی ۔ نہ پانی تھا نہ کھانے کو کچھ اور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ممتاز مفتی مجھے کوسنے لگا اور میں ان سے کہنے لگا کہ میں نے نہ کہا تھا کہ یہ راستہ اختیار نہ کرو بہر حال ہم چلتے گئے  اور اس جانب چلے  جہاں دور ایک جھونپڑی دکھائی پڑتی تھی ۔ ہم تھکے ہارے اس جھونپڑی میں پہنچے  تو وہاں ایک سندھی ٹوپی پہنے کندھوں پر شال پہنے ایک بڑی عمر کے شخص بیٹھے تھے ۔ ان کی خستہ حالی تو ہم پر عیاں  ہو رہی تھی مگر ان میں ایک عجیب طرح کا اعتماد تھا ۔ ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔ دبا دبا کے گلے ملے ۔ کنستر سے پانی کا لوٹا بھرا ہمارے منہ ہاتھ دھلائے ۔ ان کی جھونپڑؑی میں ایک صف سے بچھی تھی ۔ اس پر ہمیں ایسے بٹھایا کہ جیسے ہمارا انتظار کر رہے ہوں ۔ ہم نے ان سے کہا کہ " بڑے میاں آپ اس بیان میں کیسے رہ رہے ہیں؟ " ۔
وہ بولے " کیا خدا نے اپنی مخلوق سے رزق کا وعدہ نہیں کر رکھا " ۔ 
ہم نے یک زبان ہو کر کہا  " ہاں کر رکھا ہے " ۔ 
ہم نے ان سے دریافت کیا کہ " آپ کا ذریعہ معاش کیا ہے ؟ " ۔ 
وہ کہنے لگے کہ " اس کے خیال میں اس کا ذریعہ معاش دوسرا آدمی ہے " ۔ 
میں ہر نماز کے وقت اٹھتے بیٹھتے اپنے پروردگار سے یہ دعا کرتا ہوں کہ " اے میرے رب مجھے کبھی اس کیفیت میں نہ رکھنا کہ میں اکیلا کسی وقت کھانا کھاؤں ۔ آپ مجھ پر اپنی رحمت کرنا اور جب بھی کھانے کا وقت ہو تو دوسرا تیرا بندہ بھی ہو جس کے ساتھ بیٹھ کر میں کھانا کھاؤں " ۔ 
 اس نے بتایا کہ اسے یاد نہیں پڑتا  کہ کبھی اس نے اکیلا کھانا کھایا ہو ۔ کھانے کے وقت کوئی نہ کوئی انسان ضرور آ جاتا ہے ۔ آج کھانے کا وقت نکلا جا رہا تھا اور میں پریشان تھا کہ آج میں اکیلا کھانا کیسے کھاؤں گا ۔ اس نے دو تین سوکھی سی روٹیاں نکالیں گھڑے کا پانی لایا  اور کھانا شروع کر دیا ۔ میں نے ممتاز مفتی کو کہنی ماری کہ " اپنا سودا نکالو " ۔ 
ہم نے چلتے وقت  بُھنے  ہوئے چنے رکھ  لیے تھے ۔ کہ وہ بوقت ضرورت کام آئیں ۔ اس نے روٹیاں نکالیں ۔ ہم نے چنے نکالے  اور سب نے مزے سے باتیں کرتے ہوئے کھانا کھایا ۔ 
خواتین و حضرات ! آپ یقین کریں کہ اس کھانے میں ایک روٹی بچ گئی ۔ اور ہمارے چنے بھی کافی سارے بچ گئے ۔ اور ہم سیر شکم ہو گئے ۔ اس شخص نے بتایا کہ یہاں سے شہر زیادہ دور نہیں ہے ۔ چند کوس کے فاصلے پر ہے ۔ یہاں سے اونٹ چرانے والوں کے قافلے گذرتے ہیں  آپ ان کے ساتھ چلے جائیے گا ۔ ہم نے اپنے باقی چنے وہیں چھوڑ دیے اور قافلے کے ساتھ شہر پہنچ گئے ۔ 
بچو ! یہ بھی دعا تھی ۔ ہو سکتا ہے کہ کسی دوسرے کے رزق کے باعث اس شخص کو بھی کھانا میسر ہوتا ہو ۔ ممتاز مفتی مجھ سے کہے لگا کہ یہ شخص بڑا سیانا ہے کسی کے لیے دعا مانگتا ہے اور کھانا خود مزے سے کھاتا ہے ۔  ہم صرف اپنے ہی دعا کرتے ہیں اور پھر بھی بھوکے مرتے ہیں ۔

اشفاق احمد زاویہ 3 باب سب کا بھلا سب کی خیر  صفحہ 10،11                

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…