" خالی دریا "

ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں ۔ بادام، چلغوزہ تیار ہوگا ۔ بارش برسے گی تو دریاؤں ، نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ 
کہیں کہ خزاں کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔ 
ہم بجائے کسی بات کو نیگیٹو  لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں ۔اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری  ممکن ہے  وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
 
اشفاق احمد زاویہ 3 ناشکری کا عارضہ صفحہ 15