نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

" مولوی صاحب "

مولوی صاحب بھی عجیب و غریب آدمی تھے ۔ ان کے گھر کے دو حجرے تھے ہم سے کہنے لگے ( ممتا ز مفتی ان کے بڑے دوست ہو گئے تھے ) میرے ساتھ  چائے پیئیں ۔ وہ ہمیں اپنے گھر لے گئے اور جس کمرے میں ہمیں بٹھایا اس میں ایک صندوقچی تھی بیٹھ کر جس پر وہ لکھتے تھے ۔ اور باقی ایک صف بچھی ہوئی تھی ۔
ممتاز مفتی تھوڑی دیر ادہر ادہر دیکھ کر کہنے لگے مولوی صاحب آپ کا سامان کہاں ہے تو وہ بولے  آپ ہم کو بتاؤ آپ کا سامان کدھر ہے ؟
ممتاز مفتی کہنے لگے ! میں تو مسافر ہوں مولوی صاحب نے کہا میں بھی تو مسافر ہوں ۔ کیا جواب تھا اس طرح کے لوگ بھی ہوتے ہیں مولوی صاحب کا ایک خادم تھا وہ آذان دیتا تھا ۔ اس نے واسکٹ پہنی ہوئی تھی ۔ وہ اندر آ کے کبھی ایک اور کبھی دوسری جیب میں ہاتھ ڈالتاتھا ۔ میں سمجھا کہ اسے خارش کا کوئی مرض لاحق ہوگا یا ایک "جھولے " کا مرض ہوجاتا ہے وہ ہوگا وہ بار بار جیب دیکھتا تھا۔ اس سے مجھے بڑا تجسس پیدا ہوا۔ میں نے کہا مولوی صاحب کیا آپ کا یہ خادم بیمار ہے تو کہنے لگے نہیں اللہ کے فضل سے بہت صحت مند بہت اچھا اور نیک آدمی ہے۔ میں نے کہا جی یہ ہر وقت جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ ٹٹولتا رہتا ہے۔ کہنے لگے جی یہ اللہ والا آدمی ہے اور خدا کے اصل بندے جو ہیں وہ ہر وقت جیبوں کی تلاشی لیتے رہتے ہیں کہ اس میں کوئی چیز تو نہیں پڑی جو اللہ کو ناپسند ہو ۔ میں نے کہا ہم تو بڑے بد نصیب ہیں اور اس شہر سے آتے ہیں جہاں نا پسند چیزیں ہم جیبوں میں ہی نہیں دل کے اندر تک بھرتے  ہیں اور بہت خوش ہوتے ہیں ۔


اشفاق احمد زاویہ 2 پانی کی لڑائی اور سندیلے کی طوائفیں صفحہ 134        

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15